عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 214
عائلی مسائل اور ان کا حل کے ساتھ اجر میں برابر کی شریک نہیں ہیں۔حضور ﷺ نے اپنا رخ مبارک صحابہ کی طرف پھیرا اور فرمایا کہ کیا تم نے دین کے معاملہ میں اپنے مسئلہ کو اس عمدگی سے بیان کرنے میں اس عورت سے بہتر کسی کی بات سنی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ہمیں یہ ہر گز خیال نہ تھا کہ ایک عورت ایسی (گہری سوچ رکھتی ہے۔آنحضور ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے کہ : اے عورت ! واپس جاؤ اور دوسری سب عورتوں کو بتا دو کہ کسی عورت کے لئے اچھی بیوی بننا، خاوند کی رضا جوئی اور اس کے موافق چلنا، مردوں کی ان تمام نیکیوں کے برابر ہے۔وہ عورت واپس گئی اور خوشی سے لا إِلَهَ إِلَّا اللہ اور اللہ اکبر کے الفاظ بلند کرتی گئی۔(تفسیر الدر المنثور) تو فرمایا: ” جو اس طرح تعاون کرنے والی اور گھروں کو چلانے والیاں ہیں اور اچھی بیویاں ہیں ان کا اجر بھی ان کے عبادت گزار خاوندوں اور اللہ کی خاطر جہاد کرنے والے خاوندوں کے برابر ہے۔تو دیکھیں عورتوں کو گھر بیٹھے بٹھائے کتنے عظیم اجروں کی خوشخبری اللہ تعالیٰ دے رہا ہے، اللہ کار سول دے رہا ہے“۔(جلسہ سالانہ یو کے خطاب از مستورات فرمودہ 31 / جولائی 2004ء۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 124 اپریل 2015ء) ایک اور موقع پر حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے قرآن کریم کے حوالہ سے عورتوں کو نصیحت فرماتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : فالصلحتُ قُنِتَت حَفِظتُ لِلْغَيْبِ بِمَا وو 214