عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 53 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 53

عائلی مسائل اور ان کا حل یہ دعا ایک ایسی دعا ہے جو نسلوں کے سدھارنے کے بھی کام آتی ہے اور اپنی اصلاح کے بھی کام آتی ہے اور مرنے کے بعد نیک نسل کی دعاؤں اور اعمال کی وجہ سے درجات کی بلندی کے بھی کام آتی ہے اور پھر اس میں مومن کی شان کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ مومن چھوٹی چھوٹی باتوں پر راضی نہیں ہوتا بلکہ ترقی کی منازل کی طرف قدم مارتا ہے۔اس کے قدم آگے بڑھتے ہیں۔متقی خود بھی تقویٰ میں بڑھتا ہے اور اپنی نسل کو بھی تقویٰ میں بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔پس خوش قسمت ہیں وہ ماں باپ جو اپنے بچوں کی تربیت کی فکر میں رہتے ہیں۔اُن کو دین کے قریب کرتے ہیں۔اُن میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کرتے ہیں اور پھر اپنی حالتوں میں ایک پاک تبدیلی پیدا کر کے اپنی دنیا و عاقبت بھی سنوارتے ہیں۔پس اس دعا کو بہت شدت سے اور سمجھ کر پڑھنے کی ہر احمدی عورت اور مرد کو ضرورت ہے۔بہت سے لوگوں کو اولاد سے شکوہ ہوتا ہے کہ اولا د بگڑ گئی۔اگر نیک تربیت اور دعاؤں کی طرف توجہ ہو تو اللہ تعالیٰ پھر فضل فرماتا ہے۔اولاد کو الا ماشاء اللہ بگڑنے سے بچاتا ہے“۔" (جلسه سالانه جرمنی، خطاب از مستورات فرموده 25 جون 2011ء۔مطبوعہ 13 اپریل 2012ء) ای موضوع پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے ایک اور خطبہ میں فرماتے ہیں: یہ جو اللہ تعالیٰ نے دعا سکھائی ہے کہ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إمَامًا (الفرقان:75) تو اولاد کے قرۃ العین ہونے کے لئے ہمیشہ دعا کرتے 53