عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 227
عائلی مسائل اور ان کا حل دفعہ نہیں ہوتی۔اسی طرح بعض دفعہ بعض لڑکیوں میں بھی نقائص ہوتے ہیں۔بہر حال جب رشتہ ہو رہا ہو تو یہ باتیں سامنے آنی چاہئیں اور دونوں کو تقویٰ کے ساتھ بتانی چاہئیں تا کہ بعد میں جھگڑے نہ ہوں۔پھر حضور انور نے فرمایا: بعض خاندان ایسے ہیں جو شادی کے بعد لڑکی کو طعنہ دیتے ہیں کہ جہیز لے کر نہیں آئی، اولاد نہیں ہوتی، اس کی تو لڑکیاں ہوتی ہیں۔اس طرح لڑکے والے لڑکی کو طعنے دیتے ہیں تو پھر علیحدگی ہو جاتی ہے۔بعض دادیاں، نانیاں پاکستان سے دیہاتی ماحول سے آئی ہیں اور دیہاتی اثر ان پر غالب ہے اور ان کی جاہلانہ سوچ کی وجہ سے بعض رشتے خراب ہو رہے ہیں“۔لجنہ اماء اللہ کی ذمہ داریاں (مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 28 ستمبر 2012) 17 جون 2011ء کو دورہ جرمنی کے دوران حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے لجنہ اماء الله جرمنی کی نیشنل مجلس عاملہ کے ساتھ میٹنگ میں بھی اہم ہدایات بیان فرمائیں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ ایک سروے آپ نے مجھے بھجوایا تھا اس کے مطابق لڑکیاں خُلع زیادہ لے رہی ہیں۔حضور انور نے فرمایا کہ لڑکیاں طلاقوں کی نسبت اتنی بے چین کیوں ہو گئی ہیں؟ کبھی جائزہ لیا ہے؟ مکرمہ صدر صاحبہ نے بتایا کہ جائزہ لیا ہے۔پاکستان سے جو لڑکیاں آتی 227