عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 173 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 173

عائلی مسائل اور ان کا حل کہ اے وہ لو گو ! جو ایمان لائے ہو تمہارے لئے جائز نہیں کہ تم زبر دستی کرتے ہوئے عورتوں کا ورثہ لو اور انہیں اس غرض سے تنگ نہ کرو کہ تم جو کچھ انہیں دے بیٹھے ہو اس میں سے کچھ پھر لے بھا گو۔سوائے اس کے کہ وہ کھلی کھلی بے حیائی کی مرتکب ہوئی ہوں اور ان سے نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو اور اگر تم انہیں ناپسند کرو تو عین ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو نا پسند کرو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔تو یہ ہے ایک حق عورت کا۔مثلاً ایک خاوند اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہے، اسے نا پسند کرتا ہے، حقوق پوری طرح ادا نہیں کرتا اور چھوڑتا بھی اس لئے نہیں کہ اس کی جائیداد سے فائدہ اٹھاتا رہے۔یا عورت بے چاری کو اس حالت میں پہنچا دیا ہے کہ وہ بستر مرگ پہ پہنچ گئی ہے اور کوشش ہو کہ اس کے مرنے کے بعد پھر اس کی جائیداد سے فائدہ اٹھائے۔بسا اوقات عورت کو بد نام کر کے ایسی جھوٹی کہانیاں پیش کی جاتی ہیں اور اس کے حق سے محروم کرنے والی وہ باتیں قضا میں بھی اور عدالتوں میں بھی بیان کی جاتی ہیں۔یا بعض دفعہ ان ملکوں میں یوں بھی ہوتا ہے کہ عورت کی کچھ جائیداد یا نصف جائیداد عدالتوں میں جا کر ہتھیانے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ اس کو مکمل طور پر ناجائز قرار دیتا ہے۔پھر یہ بھی بعض دفعہ ہوتا ہے کہ رشتہ دار بیوہ کو اس لئے شادی نہیں کرنے دیتے کہ اس عورت کے خاوند کی جائیداد پر ان کا تصرف رہے اور قبضہ رہے۔173