عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 172 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 172

عائلی مسائل اور ان کا حل دونوں نے اٹھ کر نماز پڑھی۔پھر سلمان نے کہا اے ابو دردا ! تمہارے پر وردگار کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے۔تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔پس ہر حقدار کو اس کا حق دو، اس کے بعد ابو درا آنحضرت ام کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے اس واقعہ کا ذکر کیا حضور لم نے فرمایا سلمان نے ٹھیک کیا ہے“۔( بخاری کتاب الصوم باب من اقتسم على اخيه ليفطر في التطوع) زہد یہ نہیں ہے کہ دنیاوی حقوق بیوی بچوں کے جو اللہ تعالیٰ نے دیئے ہیں ان کو انسان بھول جائے یا کام کاج کرنا چھوڑ دے۔دنیاوی کام کاج بھی ساتھ ہوں لیکن صرف مقصود یہ نہ ہو۔بلکہ ہر ایک کے حقوق ہیں وہ ادا کئے جائیں“۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 17 مئی 2004ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 21 مئی 2004ء) اسی حوالہ سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خواتین سے خطاب فرماتے ہوئے یہ نصیحت فرمائی کہ : ” پھر عورت کی آزادی کا ہر حق قائم کرنے کے لئے اسلام عورت کو ایک ایسا حق دلواتا ہے جو کئی حقوق کا مجموعہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُو الا تَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُوا اللسَاء كَرْهًا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا أَتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيرًا (النساء: 20) 172