عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 157 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 157

عائلی مسائل اور ان کا حل طرف جاتے ہیں کہ ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے۔اسی طرح دونوں طرف کے رحمی رشتوں یا دوسری ایسی باتوں کو جن کے سننے سے کسی قسم کی بھی تلخی کا احتمال ہو اُن سے اپنے کان بند کر لو۔بعض دفعہ اگر ایک شخص یا ایک فریق کوئی غلط بات کرتا ہے تو دوسرا بھی اُس کو اسی طرح ترکی بہ ترکی جواب دیتا ہے۔اگر جھگڑے کو ختم کرنے کے لئے تھوڑے وقت کے لئے کان بند کر لئے جائیں تو بہت سارے مسائل وہیں دب سکتے ہیں سوائے اس کے کہ وہ مرد یا عور تیں عادی جھگڑنے والے ہوں اُن کے علاوہ عموماً جھگڑے نہیں ہوتے۔پس کان بند کرو، امن میں آ جاؤ گے۔میں ایک واقعہ بتایا کرتا ہوں اور یہ سچا واقعہ ہے کہ ایک خاوند اور بیوی جھگڑا کر رہے تھے۔ایک چھوٹی بچی اُن کو دیکھ رہی تھی اور بڑی حیران ہو کر دیکھ رہی تھی۔تھوڑی دیر بعد اُن دونوں کو خیال آیا کہ ہم غلط کام کر رہے ہیں۔اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے ویسے ہی بچی سے پوچھا کہ کیا تمہارے ماں باپ نہیں لڑتے، اُمی ابا نہیں لڑتے یا ایک دوسرے سے سختی سے نہیں بولتے ؟ یا ناراض نہیں ہوتے ؟ اُس نے کہا ہاں۔اگر میرے باپ کو غصہ آتا ہے تو میری ماں خاموش ہو جاتی ہے اور ماں کو غصہ آتا ہے تو باپ خاموش ہو جاتا ہے تو ہمارے ہاں لڑائی آگے نہیں بڑھتی۔تو پھر اس سے یہ نیک اثر بھی بچوں پر پڑتا ہے۔ایک دوسرے کی برائیوں کو دیکھنے کے لئے آنکھیں بند رکھو اور ایک دوسرے کی اچھائیاں دیکھنے کے لئے اپنی آنکھیں 157