عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 80
عائلی مسائل اور ان کا حل دیئے ہیں۔جلسہ سالانہ یو کے خطاب از مستورات فرمودہ 29 جولائی 2006 ء مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 26 جون 2015ء) حضرت خلیفہ النبی الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطاب 31 جولائی 2004 ء بر موقع جلسہ سالانہ برطانیہ میں مردوں اور عورتوں کو اُن کے فرائض کی طرف نہایت احسن رنگ میں توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: دیکھیں کتنی وضاحت سے آپ نے فرمایا کہ حقوق کے لحاظ سے دونوں کے حقوق ایک جیسے ہیں۔اس لئے مرد یہ کہہ کر کہ میں قوام ہوں اس لئے میرے حقوق بھی زیادہ ہیں ، زیادہ حقوق کا حق دار نہیں بن جاتا۔جس طرح عورت مرد کے تمام فرائض ادا کرنے کی ذمہ دار ہے اسی طرح مرد بھی عورت کے تمام فرائض ادا کرنے کا ذمہ دار ہے“۔66 آگے چل کر فرمایا کہ : ”ہمارے ہاں یہ محاورہ ہے کہ عورت پاؤں کی جوتی ہے، یہ انتہائی گھٹیا سوچ ہے، غلط محاورہ ہے۔اس محاورے کا مطلب یہ ہے کہ جب عورت سے دل بھر گیا تو دوسری پسند آگئی اس سے شادی کر لی اسے چھوڑ دیا اور پہلی بیوی کے جذبات و احساسات کا کوئی خیال ہی نہ رکھا گیا تو یہ انتہائی گھٹیا حرکت ہے۔عورت کوئی بے جان چیز نہیں ہے بلکہ جذبات احساسات رکھنے والی ایک ہستی ہے۔مردوں کو یہ سمجھایا ہے کہ یہ ایک عرصے تک تمہارے گھر میں سکون کا باعث بنی، تمہارے بچوں کی ماں ہے، ان کی خاطر تکلیفیں برداشت کرتی رہی 80 50