عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 79
عائلی مسائل اور ان کا حل فرمایا تھا کہ میں تم سے سب سے زیادہ بیویوں سے بہترین سلوک کرنے والا ہوں۔لیکن جیسا کہ اسلام کے دوسرے احکامات اور زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ عمل میں کمی آگئی۔یہی حال اس حکم کا بھی ہوا اس کی کوئی وقعت نہیں رہی کہ عورت کا خیال رکھو اس کی عزت کرو اس کا احترام کرو اس کے حقوق ادا کرو کیونکہ ایک نیک اور عمل صالح کرنے والی عورت کا مقام ایسا ہے جس کے پاؤں کے نیچے جنت ہے۔پس اس زمانے میں جیسا کہ میں نے کہا عورت کے متعلقہ حکموں پر عمل کرنے میں کمی آگئی ہے اس لئے رسول کامل م کے عاشق صادق اور زمانے کے امام کو اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف متوجہ فرمایا کہ اپنی جماعت میں عورتوں کے حقوق قائم کرواؤ، اس صنف نازک کو جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شیشے سے تشبیہ دی ہے جس کے ساتھ سختی اُسے کرچی کرچی کر سکتی ہے، ٹکڑے ٹکڑے کر سکتی ہے۔جس کے جسم کی بناوٹ نازک ہے جس کے جذبات کو بھی خدا تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ نرمی اور رافت سے پیش آنا چاہئے۔یہ پہلی کی ہڈی سے مشابہ ہے اس کی اصل شکل سے ہی فائدہ اٹھاؤ۔پس آپ کو جب ایسے امام کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق ملی ہے جس کو اس زمانے میں پھر براہ راست آپ کے حقوق قائم کروانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا پھر آپ کو کس قدر اس خدا کا شکر گزار ہوتے ہوئے اس کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو ہمارے پیدا کرنے والے نے ہمیں 79