عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 60
عائلی مسائل اور ان کا حل کے لئے اور منازل بھی طے کرنی ہوں گی۔دین کی صحیح تعلیم پر عمل کرنے کے لئے تم نے اخلاق کے اور بھی اعلیٰ معیار دکھانے ہیں۔اگر یہ معیار قائم ہو گئے تو پھر تم حقیقی معنوں میں مسلمان کہلانے کے مستحق ہو اور اگر یہ معیار قائم کر لئے اور اپنے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا کر لئے تو پھر ٹھیک ہے تم نے مقصد پالیا اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن گئے اور انشاء اللہ بنتے رہو گے اور اگر یہ اعلیٰ معیار قائم نہ کئے اور تکبر دکھاتے رہے اور ہر وقت اسی فکر میں رہے کہ اپنے آپ کو میں کسی طریقے سے نمایاں کروں تو یاد رکھو کہ یہ باتیں اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہیں۔پھر تو حقوق العباد ادا کر نے والے نہیں ہو گے بلکہ اپنی عبادتوں کو ضائع کرنے والے ہو گے۔اگر حسن خلق کے اعلیٰ معیار قائم نہ کئے تو اس کے ساتھ ساتھ اپنی عبادتوں کو بھی ضائع کر رہے ہو گے اور وہ معیار کیا ہیں جو اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے کہ ہم قائم کریں۔فرمایا وہ معیار یہ ہے کہ تم قریبی رشتہ داروں سے حسن سلوک کرو۔وہ قریبی رشتہ دار جو تمہارے ماں باپ کی طرف سے تمہارے قریبی رشتہ دار ہیں ، تمہارے رحمی رشتہ دار ہیں۔پھر جو شادی شدہ لوگ ہیں ان کی بیوی کی طرف سے یا بیوی کے خاوند کی طرف سے رشتہ دار ہیں یہ سب قرابت داروں کے زمرہ میں آتے ہیں اور ان رشتوں سے حسن سلوک کا عورت اور مرد کو یکساں حکم ہے ایک جیسا حکم ہے جب عورت اور مرد ایک دوسرے کے رحمی رشتہ داروں سے حسن سلوک 60