عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 32 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 32

عائلی مسائل اور ان کا حل اللہ تعالیٰ کو اس کی خبر ہے۔تو پھر اگر یہ خیال دل میں رہے کہ اللہ تعالیٰ اگر دیکھ رہا ہے اور اللہ کو اس کی خبر ہے تو حضور (حضرت خلیفتہ المسیح الاول) فرماتے ہیں کہ ان برائیوں سے بچا جاسکتا ہے۔اللہ کرے کہ ہر احمدی گھرانہ خاوند ہو یا بیوی ، ساس ہو یا بہو ، نند ہو یا بھا بھی تقویٰ کی راہوں پر قدم مارنے والی اور ایک حسین معاشرہ قائم کرنے والی ہوں“۔(خطبہ جمعہ 30 مئی 2003، بمقام مسجد فضل لندن، مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 18جولائی 2003ء) اسی موضوع پر حضور انور ایدہ اللہ اپنے ایک اور خطبہ میں فرماتے ہیں: بعض دفعہ گھروں میں چھوٹی موٹی چپقلش میں ہوتی ہیں ان میں عورتیں بحیثیت ساس کیونکہ ان کی طبیعت ایسی ہوتی ہے وہ کہہ دیتی ہیں کہ بہو کو گھر سے نکالو لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب سر بھی ، مرد بھی جن کو اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہوئی ہے اپنی بیویوں کی باتوں میں آکر یا خود ہی بہوؤں کو برابھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں حتی کہ بلاوجہ بہوؤں پہ ہاتھ بھی اٹھالیتے ہیں۔پھر بیٹوں کو بھی کہتے ہیں کہ مارو اور اگر مر گئی تو کوئی فرق نہیں پڑتا اور بیوی لے آئیں گے۔اللہ عقل دے ایسے مردوں کو۔ان کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ الفاظ یادرکھنے چاہئیں کہ ایسے مرد بزدل اور نامر دہیں“۔(خطبہ جمعہ فرمود 2 جولائی 2004ء بمقام انٹر نیشنل سنٹر ، مسی ساگا، کینیڈ کی مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 16 جولائی 2004ء) 24 جون 2005ء کو ٹورانٹو (کینیڈا) میں خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے باہمی رشتوں کے حوالہ سے احباب 32