عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 31
عائلی مسائل اور ان کا حل میں بسانا چاہتا ہے لیکن ساس یا نندیں اس قسم کی سختیاں کرتی ہیں اور اپنے بیٹے یا بھائی سے ایسی زیادتیاں کرواتی ہیں کہ لڑکی بیچاری کے لئے دو ہی راستے رہ جاتے ہیں۔یا تو وہ علیحدگی اختیار کر لے یا پھر تمام عمر اس ظلم کی چکی میں پستی رہے اور یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ بعض صورتوں میں جب اس قسم کی زیادتیاں ہوتی ہیں، جب لڑکی کے بحیثیت بہو اختیارات اس کے پاس آتے ہیں تو پھر وہ ساس پر بھی زیادتیاں کر جاتی ہے اور اس پر ظلم شروع کر دیتی ہے۔اس طرح یہ ایک شیطانی چکر ہے جو ایسے خاندانوں میں جو تقویٰ سے کام نہیں لیتے جاری رہتا ہے۔حالانکہ نکاح کے وقت جب ایجاب وقبول ہوتا ہے ، تقویٰ اور قول سدید کے ذکر والی آیات پڑھ کر اس طرف توجہ دلائی جاتی ہے اور ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ایسا جنت نظیر معاشرہ قائم کرو اور ایسا ماحول پیدا کرو کہ غیر بھی تمہاری طرف کھنچے چلے آئیں۔لیکن گو چند مثالیں ہی ہوں گی جماعت میں لیکن بہر حال دکھ دہ اور تکلیف دہ مثالیں ہیں۔اب یہ جو آیت جس کی تشریح ہو رہی ہے یہ بھی نکاح کے موقع پر پڑھی جانے والی آیات میں سے ایک آیت ہے۔جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہر بات سے پہلے ، ہر کام سے پہلے سوچے کہ اس کا انجام کیا ہو گا اور جو کام تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ کو اس کی خبر ہے۔خیال ہوتا ہے زیادتی کرنے والوں کا کہ ہمیں کوئی نہیں دیکھ رہا۔ہم گھر میں بیٹھے کسی کی لڑکی پر جو مرضی ظلم کرتے چلے جائیں۔31