عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 30 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 30

عائلی مسائل اور ان کا حل پیش نظر رکھیں، تقویٰ سے کام لیں، قول سدید سے کام لیں تو یہ چیزیں کبھی پیدا نہیں ہوں گی۔آپ جو ناجائز حق لے رہے ہیں وہ جھوٹ ہے اور جھوٹ کے ساتھ شرک کے بھی مر تکب ہو رہے ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم میرے سے ناجائز فیصلہ کر والیتے ہو تو اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہو۔تو تقویٰ سے دور ہوں گے تو پھر یقینا شرک کی جھولی میں جاگریں گے۔پس استغفار کرتے ہوئے اللہ سے اس کی مغفرت اور رحم مانگیں، ہمیشہ خدا کا خوف پیش نظر رکھیں“۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 10 نومبر 2006ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل یکم دسمبر 2006ء) قولِ سدید اور تقویٰ کی کمی کے نتیجہ میں سسرال کی زیادتیاں عائلی مسائل کے حوالے سے قولِ سدید کی اہمیت کے ضمن میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بچیوں پر ہونے والے ظلم اور زیادتی کے حوالے سے فرمایا: ایک اور مسئلہ جو آج کل عائلی مسئلہ رہتا ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی اس بارہ میں توجہ دلائی جاتی ہے بچیوں کی طرف سے کہ سسرال یا خاوند کی طرف سے ظلم یا زیادتی برداشت کر رہی ہیں۔بعض دفعہ لڑکی کو لڑکے کے حالات نہیں بتائے جاتے یا ایسے غیر واضح اور ڈھکے چھپے الفاظ میں بتایا جاتا ہے کہ لڑکی یا لڑکی کے والدین اس کو معمولی چیز سمجھتے ہیں لیکن جب آپ بیچ میں جائیں تو ایسی بھیانک صورتحال ہوتی ہے کہ خوف آتا ہے۔ایسی صورت میں بعض دفعہ دیکھا گیا ہے کہ لڑکا تو شرافت سے ہمدردی سے بچی کو ، بیوی کو گھر 30