عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 247 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 247

عائلی مسائل اور ان کا حل دوسری آیت جو نکاح کے موقع پر پڑھی جاتی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا انتخاب فرمایا ہے، اُس میں فرمایا کہ تقویٰ یہی ہے کہ سیدھی اور کھری اور صاف بات کرو۔بعض باتیں بیشک سچی ہوتی ہیں لیکن بعض اوقات اُن کے کئی مطلب نکل سکتے ہیں۔حق میں بھی اور خلاف بھی جا سکتے ہیں۔بعض بڑے ہو شیار لوگ اپنے مطلب کی بات کر جاتے ہیں اور کہتے ہیں میر امطلب تو یہ تھا۔لیکن ہر ایک کی نظر میں اُس کا مطلب کچھ اور ہو رہا ہوتا ہے۔تو یہاں فرمایا کہ قولِ سدید اختیار کرو اور قولِ سدید یہ ہے کہ غیر معمولی طور پر سیدھی اور کھری بات کرو۔بعض لوگ، عورتیں بھی اور مرد بھی، بڑی ہوشیاری سے جیسا کہ میں نے کہا خاص طور پر جب ان کے کیس پیش ہو رہے ہوتے ہیں یا معاملات سامنے آتے ہیں تو بات کر دیتے ہیں۔فرمایا کہ ایک تو رشتوں کے طے کرتے وقت ہر بات کی حقیقت بتاؤ۔لڑکی کا رشتہ آ رہا ہے تو لڑکی کی صحت، عمر اور قد وغیرہ جو بھی ہے وہ صاف صاف بتانا چاہئے۔اس کی تمام معلومات جو ہیں لڑکے کو مہیا کر دینی چاہئیں۔لیکن لڑکوں کا بھی یہ فرض ہے کہ جب یہ معلومات مہیا ہو جاتی ہیں تو پھر صرف لڑکیاں دیکھنے کے لئے نہ پہنچ جایا کریں بلکہ جب معلومات مہیا ہو گئیں تو پھر دعا کر کے اس نیت سے جانا چاہئے کہ ہم نے رشتہ کرنا ہے۔اگر اس نیت سے جائیں گے تو ایک پاک معاشرہ پیدا ہو گا۔تقویٰ سے جب ایک دوسرے کے رشتے تلاش کئے جائیں گے تو پھر جو لڑکیوں میں بے چینیاں پیدا ہو جاتی ہیں وہ بھی پیدا نہیں ہوں گی۔اسی طرح 247