عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 220
عائلی مسائل اور ان کا حل کے لئے طعنہ کا ذریعہ نہیں بنائے گا۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : جو صرف بیٹیوں کے ذریعے سے آزمائش میں ڈالا گیا اور اس نے اس پر صبر کیا تو وہ بیٹیاں اس کے اور آگ کے درمیان روک ہوں گی“۔(سنن ترمذی کتاب البر والصلة باب ما جاء فی النفقيه على البنات والاخوات ) دنیا میں کون شخص ہے جس سے چھوٹی موٹی غلطیاں اور گناہ سرزد نہ ہوتے ہوں۔کون شخص ہے جو اللہ تعالی کی پناہ میں نہیں آنا چاہتا۔یقینا ہر ایک اس پناہ کی خواہش رکھتا ہے۔تو بیٹیوں والوں کو یہ خوشخبری ہے کہ مومن بیٹیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجائے گا۔بعض مسائل پیدا ہوتے ہیں ان کو حل کرنا اور اس معاشرے میں بھی ہمیں بیٹیوں کی وجہ سے بہت سارے مسائل نظر آتے ہیں ان کو برداشت کرنا اور کسی بھی طرح بیٹیوں پر یہ اظہار نہ ہونے دینا یاماؤں کو بیٹیوں کی وجہ سے نشانہ نہ بنانا، یہ ایک مومن کی نشانی ہے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر یہ باتیں جو ہیں اس کے اور آگ کے درمیان روک بن جاتی ہیں“۔(خطبہ جمعہ مؤرخہ 19 نومبر 2010ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن) فریقین کے دوستوں اور سہیلیوں کا کردار میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑے اور عائلی مسائل میں فریقین کے دوست اور سہیلیاں بھی ایک بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ 220