عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 221 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 221

عائلی مسائل اور ان کا حل بنصرہ العزیز اپنے ایک خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں: ”میاں بیوی کے دوستوں اور سہیلیوں کی وجہ سے بعض مسائل پیدا ہو رہے ہوتے ہیں۔تو ان دوستوں کے اپنے کردار ایسے ہوتے ہیں کہ آپس میں میاں بیوی کے تعلقات غیر محسوس طریقے سے وہ بگاڑ رہے ہوتے ہیں۔تو یہ شیطان ہے جو غیر محسوس طریقوں پر ایسے گھروں کو اپنے راستوں پر چلانے کی کوشش کرتا ہے“۔(خطبہ جمعہ 12 رد سمبر 2003ء بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 106 فروری 2004ء) اسی حوالہ سے ایک اور موقع پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایک روایت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: سلیمان بن عمرو بن احوص اپنے والد عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے ایک لمبی روایت کرتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حجتہ الوداع کے موقع پر آپ نے فرمایا تھا اس میں کچھ حصہ جو عورتوں سے متعلق ہے وہ یہ ہے کہ : سنو ! تمہارا تمہاری بیوی پر ایک حق ہے، اسی طرح تمہاری بیوی کا بھی تم پر ایک حق ہے تمہارا حق تمہاری بیویوں پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر ان لوگوں کو نہ بٹھائیں جن کو تم نا پسند کرتے ہو اور نہ وہ ان لوگوں کو تمہارے گھروں میں آنے کی اجازت دیں جن کو تم نا پسند کرتے ہو ، اور تمہاری بیویوں کا تم پر یہ حق ہے کہ تم ان سے ان کے کھانے کے معاملے میں اور ان کے لباس کے معاملے میں احسان کا معاملہ کرو۔(ترمذی کتاب الرضاع باب ما جاء فی حق المرآة على زوجها) 221