عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 211
عائلی مسائل اور ان کا حل کے موقعہ پر مستورات سے خطاب کرتے ہوئے انہیں ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے۔اس کی دیکھ بھال، صفائی ستھرائی، ٹکاؤ ، گھر کا حساب کتاب چلانا، خاوند جتنی رقم گھر کے خرچ کے لئے دیتا ہے اُسی میں گھر چلانے کی کوشش کرنا، پھر بعض سگھڑ خواتین ایسی ہوتی ہیں جو تھوڑی رقم میں بھی ایسی عمدگی سے گھر چلارہی ہوتی ہیں کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح اتنی تھوڑی رقم میں اس عمدگی سے گھر چلارہی ہیں اور اگر معمول سے بڑھ کر رقم ملے تو پس انداز بھی کر لیتی ہیں، بچا بھی لیتی ہیں اور اس سے گھر کے لئے کوئی خوبصورت چیز بھی خرید لیتی ہیں یا پھر بچیوں کے جہیز کے لئے کوئی چیز بنالی۔تو ایسی مائیں جب بچوں کی شادی کرتی ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اتنی تھوڑی آمدنی والی نے ایسا اچھا جہیز کس طرح اپنی بچیوں کو دے دیا۔اس کے مقابل پر بعض ایسی ہیں جن کے ہاتھوں میں لگتا ہے کہ سوراخ جتنی مرضی رقم ان کے ہاتھوں میں رکھتے چلے جاؤ، پتہ ہی نہیں چلتا کہ جیسے کہاں گئے۔اچھی بھلی آمدنی ہوتی ہے اور گھروں میں ویرانی کی حالت نظر آرہی ہوتی ہے۔بچوں کے حلیے ، ان کی حالت ایسی ہوتی ہے لگتا ہے کہ جیسے کسی فقیر کے بچے ہیں۔ایسی ماؤں کے بچے پھر احساس کمتری کا بھی شکار ہو جاتے ہیں اور پھر بڑھتے بڑھتے ایسی حالت کو پہنچ جاتے ہیں جب وہ بالکل ہی ہاتھوں سے نکل جائیں اور اس وقت پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ہیں۔211