عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 210
عائلی مسائل اور ان کا حل میں برائیوں کو روکنے والی بنیں۔معاشرے میں بھی برائیاں پھیلنے نہ دیں۔آپس میں ایک دوسرے سے حسن سلوک سے پیش آئیں۔اپنی رنجشوں اور اپنی ناراضگیوں کو بھلا دیں۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ عورتیں زیادہ دیر تک اپنی رنجشوں کو دلوں میں بٹھائے رکھتی ہیں۔اگر آپ کے دل میں بغض و کینہ پلتے رہے تو پھر خدا تعالیٰ تو ایسے دلوں میں نہیں اترتا۔ایسے دلوں کی عبادت کے معیار وہ نہیں ہوتے جو خد اتعالیٰ چاہتا ہے"۔(جلسہ سالانہ آسٹریلیا 15 اپریل 2006ء خطاب از مستورات مطبوعه الفضل انٹر نیشنل 12 جون 2015ء) آگے چل کر فرمایا ” پھر چھوٹے بچوں سے شفقت کا سلوک کرنا چاہئے۔جیسا کہ ایک حدیث میں عورت کی جو خصوصیات بیان کی گئیں ہیں ان میں آیا ہے کہ بچوں سے شفقت کرتی ہیں اور خاوندوں کی فرمانبر دار ہیں تا کہ اُن کی تربیت بھی اچھی ہو ، اُن کی اُٹھان اچھی ہو اور وہ معاشرے کا مفید وجو د بن سکیں“۔(جلسه سالانه جر منی خطاب از مستورات فرمودہ 23 / اگست 2003ء۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 18 نومبر 2005ء) نیز فرمایا: ”بچوں کی حفاظت اور تربیت کی بہت بڑی ذمہ داری عورت پر ہے۔پس ہر احمدی عورت کو اس بات کو سامنے رکھنا چاہئے“۔(جلسه سالانه جر منی خطاب از مستورات 25 / جون 2011ء۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 13 / اپریل 2012ء) عورت بحیثیت گھر کی نگران حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ جرمنی 210