عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 188
عائلی مسائل اور ان کا حل سزا بھی تمہیں ملے گی۔ایک دوسری آیت: وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (البقرة: 228) کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے: اور اگر طلاق دینے پر پختہ ارادہ کر لیں سو یاد رکھیں کہ خدا سننے والا اور جاننے والا ہے۔یعنی اگر وہ عورت جس کو طلاق دی گئی خدا کے علم میں مظلوم ہو اور پھر وہ بد دعا کرے تو خدا اس کی بد دعاسن لے گا“۔( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام زیر سورۃ البقرہ آیت 822) تو یہاں تک مردوں کو ڈرایا ہے۔دیکھیں آپ کے حقوق قائم کرنے کے لئے کس طرح مردوں کو انذار ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے یہاں تک فرمایا ہے کہ : یہ حقوق اس قسم کے ہیں کہ اگر انسان کو پورے طور پر معلوم ہوں تو بجائے بیاہ کے وہ ہمیشہ رنڈوارہنا پسند کرے۔خدا تعالیٰ کی تہدید کے نیچے رہ کر جو شخص زندگی بسر کرتا ہے وہی ان کی بجا آوری کا دم بھر سکتا ہے۔ایسے لذات جن سے خداتعالی کا تازیانہ ہمیشہ سر پر رہے تلخ زندگی بسر کر لینی ہزار ہا درجہ بہتر ہے“۔(ملفوظات جلد ہفتم صفحہ 63-64 مطبوعہ لندن) حضور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یعنی اگر یہ احساس ہو کہ ان حقوق کو جو اللہ تعالیٰ نے عورت کے حقوق مقرر فرمائے ہیں ادانہ کر کے اللہ تعالیٰ مرد کو کتنی شدید پکڑ میں لا سکتا ہے تو فرمایا کہ اگر مردوں کو یہ علم ہو تو وہ شاید یہ بھی پسند نہ کریں کہ ایک شادی 188