عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 166
عائلی مسائل اور ان کا حل شہوات کا تم پر غلبہ نہ ہو بلکہ تمہاری غرض ہر ایک امر میں تقویٰ ہو“۔(ملفوظات جلد ہفتم۔صفحہ 65-63) (جلسہ سالانہ یو کے خطاب از مستورات فرمودہ 31 جولائی 2004ء۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 24 اپریل 2015ء) تعدد ازدواج کے حوالے سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 15 مئی 2009ء میں فرماتے ہیں: قرآن کریم میں اگر اللہ تعالیٰ نے ایک سے زیادہ شادی کا حکم دیا ہے تو بعض شرائط بھی عائد فرمائی ہیں۔یہ بھی اسلام پر اعتراض کیا جاتا ہے اور آنحضرت ام پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ ایک سے زیادہ شادی کی اجازت دے کر عورت پر ظلم کیا گیا ہے۔یا صرف مرد کے جذبات کا خیال رکھا گیا ہے۔اس بارہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے، یہ کھلا حکم نہیں ہے۔فرمایا: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَكَ وَرُبعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا (النساء:1) اور اگر تم ڈرو کہ تم یتامی کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے تو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرو۔دو دو اور تین تین، چار چار لیکن اگر تمہیں خوف ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر صرف ایک کافی ہے یاوہ جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔یہ طریق قریب تر ہے کہ تم نا انصافی سے بچو۔اس آیت میں ایک تو یتیم لڑکیوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے کہ 166