عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 138
عائلی مسائل اور ان کا حل خصوصیت سے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: محضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت اپنے خاوند کے گھر کی حکمران ہے جہاں وہ اس بات کا خیال رکھے کہ خاوند کے گھر کو کسی قسم کا بھی نقصان نہ ہو۔کسی قسم کا کوئی مادی نقصان بھی نہ ہو اور روحانی نقصان بھی نہ ہو۔اُس کے پیسے کا بے جا استعمال نہ ہو کیونکہ بے جا استعمال، اسراف جو ہے یہی گھروں میں بے چینیاں پیدا کر دیتا ہے۔عورتوں کے مطالبے بڑھ جاتے ہیں۔خاوند اگر کمزور اعصاب کا مالک ہے تو ان مطالبوں کو پورا کرنے کے لئے پھر قرض لے کر اپنی عورتوں کے مطالبات پورے کرتا ہے اور بعض دفعہ اس وجہ سے مقروض ہونے کی وجہ سے، اس قرضے کی وجہ سے جب بے سکونی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے تو فکروں میں مبتلا ہوتا ہے اور اگر اس کی طبیعت صبر کرنے والی بھی ہے تو پھر مریض بن جاتا ہے۔کوئی شوگر کا مریض بن گیا، کوئی بلڈ پریشر کا مریض بن گیا۔اگر خاوند نہیں مانتا تو بعض عور تیں اپنے خاوندوں کے رویہ کی وجہ سے شوگر اور بلڈ پریشر کی مریض بن جاتی ہیں۔لیکن اگر آپ نگرانی کا صحیح حق ادا کرنے والی ہوں گی تو نہ تو آپ کسی قسم کا مریض بن رہی ہوں گی نہ آپ کے خاوند کسی قسم کے مریض بن رہے ہوں گے۔اگر کوئی خاوند بے صبرا ہے تو گھر میں ہر وقت تو تکار رہتی ہے یہ بھی مریض بنا رہی ہوتی ہے۔دونوں صورتوں میں وہی گھر جو جنت کا گہوارہ ہونا چاہئے، جنت نظیر ہونا چاہئے ان لڑائیوں جھگڑوں کی وجہ سے جہنم کا نمونہ پیش کر رہا ہوتا ہے۔138