عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 139 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 139

عائلی مسائل اور ان کا حل پھر بچوں کے ذہنوں پر اس کی وجہ سے علیحدہ اثر ہورہا ہوتا ہے۔ان کی تعلیم و تربیت متاثر ہو رہی ہوتی ہے۔اس معاشرے میں سچ کہنے کی عادت ڈالی جاتی ہے اور معاشرہ کیونکہ بالکل آزاد ہے اس لئے بعض بچے ماں باپ کے منہ پر کہہ دیتے ہیں کہ بجائے ہماری اصلاح کے پہلے اپنی اصلاح کریں۔تو اس طرح جو عورت خاوند کے گھر کی، اس کے مال اور بچوں کی، نگران بنائی گئی ہے، اپنی خواہشات کی وجہ سے اس گھر کی نگرانی کے بجائے اس کو لٹوانے کا سامان کر رہی ہوتی ہے۔پس ہر احمدی عورت کو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ وہ اپنی دنیاوی خواہشات کی تکمیل کے لئے نہیں بلکہ اپنے پیدا کرنے والے خدا کی عبادت اور اس کے ر عمل کرنے کے لئے اس دنیا میں آئی ہے“۔حکموں ہے مطبوعه الفضل انٹر نیشنل 12 جون 2015ء) ایک اور موقع پر خواتین سے مخاطب ہو کر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: بعض گھر اس لئے اجڑ جاتے ہیں کہ مرد ان کی خواہشات پوری نہیں کر سکتے۔ڈیمانڈز بہت زیادہ ہو جاتی ہیں۔یا اگر اُجڑتے نہیں تو بے سکونی کی کیفیت رہتی ہے۔لیکن جو حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے لو لگانے والے ہوں اُن کا کفیل خدا خود ہو جاتا ہے، اُن کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ایک عقلمند عورت وہی ہے جو یہ سوچے کہ میں نے اپنا گھر یلو چین اور سکون کس طرح 139