عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 105 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 105

عائلی مسائل اور ان کا حل تجویز کئے ہیں لیکن پسند نہیں آئے اور وجہ یہ تھی کہ لڑکے نے کہا کہ رشتہ تعلیم میری شرط کے مطابق ہونا چاہئے۔خود یہ صاحب میٹرک پاس ہیں، معمولی ہے اور شرط یہ تھی کہ لڑکی پڑھی لکھی ہو ، ایم اے ہو اور کام کرتی ہو ، کما کے لانے والی ہو ، شادی پر مجھے مکان بھی ملے، دس بیس لاکھ روپیہ نقد بھی ملے، میر ا خرچ بھی اٹھائے اور پھر یہ کہ صرف خرچ ہی نہ اٹھائے بلکہ مجھے کام کرنے کے لئے نہ سسرال والے اور نہ ہی لڑکی کچھ کہے، جب مرضی ہو کام کروں یا نہ کروں۔تو ایسے شخص کو ذہنی مریض کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ایسے رشتوں اور ایسے لڑکوں پر تور شتہ ناطہ کو تو جہ ہی نہیں دینی چاہئے تھی پتہ نہیں کیوں وہ تجویز کرتے رہے)، کیونکہ اگر ایسے لوگوں سے ہی واسطہ رہا تو رشتے ناطہ کا عملہ بھی کہیں ذہنی مریض نہ بن جائے“۔ناجائز مطالبے (خطبه جمعه فرموده یکم دسمبر 2006ء بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن برطانیہ ) مذکورہ بالا خطبہ میں ہی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فریقین کے ناجائز مطالبات کے حوالہ سے فرمایا: ”افسوس ہے کہ خیر کا مطالبہ تو ہوتا ہے لیکن ایسا کوئی بھی نہیں کرتا۔لیکن عملی صورت بعض جگہ اس طرح نظر آجاتی ہے کہ شادی کے وقت تو کچھ نہیں کہتے اور کوئی شرط نہیں لگاتے لیکن شادی کے بعد عملی رویہ یہی ہو جاتا 105