عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 104 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 104

عائلی مسائل اور ان کا حل نہیں۔اپنے بیوی بچوں کے خرچ پورے کرنے کے وہ مرد خود ذمہ دار ہیں۔اس لئے جو بھی حالات ہوں چاہے مزدوری کر کے اپنے گھر کے خرچ پورے کرنے پڑیں ان کا فرض ہے کہ وہ گھر کے خرچ پورے کریں اور اس محنت کے ساتھ اگر دعا بھی کریں تو پھر اللہ تعالیٰ برکت بھی ڈالتا ہے اور کشائش بھی پیدا فرماتا ہے“۔(خطبہ جمعہ فرموده 2 / جولائی 2004 ء بمقام انٹر نیشنل سنٹر ، مسی ساگا، کینیڈا مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 16 جولائی 2004ء) ”اب میں بعض عمومی باتیں بتا تا ہوں۔اگر علیحدگی ہوتی ہے تو بعض لوگ یہاں قانون کا سہارا لیتے ہوئے بیوی کے پیسے سے لئے ہوئے مکان کا نصف اپنے نام کرا لیتے ہیں۔قانون کی نظر میں تو شاید وہ حقدار ہو جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک کھلے کھلے گناہ کا ارتکاب کر رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ اگر تم نے بیوی کو ڈھیروں مال بھی دیا ہے تو واپس نہ لو، کجا یہ کہ بیوی کے مال پر بھی ڈاکے ڈالنے لگ جاؤ، اس کی چیزیں بھی قبضے میں کر لو“۔(خطبه جمعه فرمودہ 10 نومبر 2006ء بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن مطبوعه الفضل انٹر نیشنل یکم دسمبر 2006ء) رشتہ کرتے وقت تقویٰ کو مد نظر رکھنے کی اہمیت کا بیان کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا: «گزشتہ دنوں کسی نے مجھے لکھا کہ میرا رشتہ نہیں ہوتا، نظارت رشتہ ناطہ پاکستان تعاون نہیں کرتا۔جب میں نے رپورٹ لی تو پتہ لگا کہ رشتے تو کئی 104