عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 103
عائلی مسائل اور ان کا حل بڑی تکلیف دہ صورتحال ہوتی ہے اور یہ ایسی صورت حال ہے جو سامنے آتی ہیں جن کا میں ذکر کر رہا ہوں۔تو اللہ تعالی رحم فرمائے اور ایسے گھروں کو عقل اور سمجھ سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر گھر، ہر احمدی گھرانہ پیار اور محبت اور الفت کا نمونہ دکھانے والا ہو“۔(خطبہ جمعہ 15 اگست 2003ء بمقام مسجد فضل، لندن برطانیہ۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 10/ اکتوبر 2003ء) حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں: ” مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے اور ایسے معاملات سن کر بڑی تکلیف ہوتی ہے، طبیعت بعض دفعہ بے چین ہو جاتی ہے کہ ہم میں سے بعض کس طرف چل پڑے ہیں۔بیوی کی ساری قربانیاں بھول جاتے ہیں حتی کہ بعض تو اس حد تک کمینگی پر آتے ہیں کہ بیوی سے رقم لے کر اس پر دباؤ ڈال کر اس کے ماں باپ سے رقم وصول کر کے کاروبار کرتے ہیں یاز بر دستی بیوی کے پیسوں سے خریدے ہوئے مکان میں اپنا حصہ ڈال لیتے ہیں اور پھر اس کو مستقل دھمکیاں ہوتی ہیں اور بعض دفعہ تو حیرت ہوتی ہے کہ اچھے بھلے شریف خاندانوں کے لڑکے بھی ایسی حرکتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ایسے لوگ کچھ خوف خدا کریں اور اپنی اصلاح کریں۔ورنہ یہ واضح ہو کہ نظام جماعت، اگر نظام کے پاس معاملہ آجائے تو ، کبھی ایسے بیہودہ لوگوں کا ساتھ نہیں دیتا، نہ دے گا“۔مزید فرمایا: ”وہ مرد جو عورتوں کے مال پر نظر رکھے رہتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ذمہ داری ان کی ہے اور عورت کی رقم پر ان کا کوئی حق 103