عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 85
عائلی مسائل اور ان کا حل وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيرًا - (النساء : 20) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارے لئے جائز نہیں کہ تم زبر دستی کرتے ہوئے عورتوں کا ورثہ لو۔اور انہیں اس غرض سے تنگ نہ کرو کہ تم جو کچھ انہیں دے بیٹھے ہو اس میں سے کچھ (پھر) لے بھا گو، سوائے اس کے کہ وہ کھلی کھلی بے حیائی کی مرتکب ہوئی ہوں۔اور ان سے نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو۔اور اگر تم انہیں ناپسند کرو تو عین ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو نا پسند کرو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔اللہ تعالیٰ تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ عورتوں سے حسن سلوک کرو۔جن کو تم دوسرے گھروں سے بیاہ کر لائے ہو ان کے عزیز رشتے داروں سے ماں باپ بہنوں بھائیوں سے جدا کیا ہے ان کو بلاوجہ تنگ نہ کرو، ان کے حقوق ادا کرو اور ان کے حقوق ادانہ کرنے کے بہانے تلاش نہ کرو“۔(جلسہ سالانہ یو کے خطاب از مستورات فرمودہ 31 جولائی 2004ء۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 24 / اپریل 2015ء) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے عورتوں سے حسن سلوک کے بارہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک حوالہ سناتے ہوئے فرمایا: ایک جگہ آپ فرماتے ہیں یہ دل دُکھانا بڑے گناہ کی بات ہے اور لڑکیوں کے تعلقات بہت نازک ہوتے ہیں۔تو جہاں مردوں کو سختی کی اجازت 85