عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 74 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 74

عائلی مسائل اور ان کا حل (خطبہ جمعہ 2 جولائی 2004ء بمقام انٹر نیشنل سنٹر ، مسی سا گا، کینیڈا) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اس حوالے سے ایک اور موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں: " حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ملفوظات میں فرماتے ہیں کہ ہمارے ہادی کامل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جس کا اپنے اہل کے ساتھ عمدہ سلوک ہو۔بیوی کے ساتھ جس کا عمدہ چال چلن اور معاشرت اچھی نہیں وہ نیک کہاں۔دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی تب کر سکتا ہے جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ عمدہ سلوک کرتا ہو۔جو باہر بظاہر نیک نظر آتے ہیں ان میں بھی کئی خامیاں ہوتی ہیں، جو بیویوں کے ساتھ یا گھر والوں کے ساتھ نیک سلوک نہیں کر رہے اس لئے معاشرے کو بھی ایسے لوگوں پر غور کرنا چاہئے۔ظاہری چیز پہ نہ جائیں۔فرمایا کہ جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ عمدہ سلوک کرتا ہو اور عمدہ معاشرت رکھتا ہو۔نہ یہ کہ ہر ادنی بات پر زدو کوب کرے۔ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ ایک غصے سے بھرا ہوا انسان بیوی سے ادنی سی بات پر ناراض ہو کر اس کو مارتا ہے اور کسی نازک مقام پر چوٹ لگی ہے اور بیوی مر گئی ہے۔اس لئے ان کے واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ : عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء : 20)۔ہاں اگر وہ بے جا کام کرے تو تنبیہ 74