عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 75
ضروری چیز ہے“۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 404-403) عائلی مسائل اور ان کا حل بعض دفعہ گھروں میں میاں بیوی کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تلخ کلامی ہو جاتی ہے ، تلخی ہو جاتی ہے۔مرد کو اللہ تعالیٰ نے زیادہ مضبوط اور طاقتور بنایا ہے اگر مرد خاموش ہو جائے تو شاید اسی فیصد سے زائد جھگڑے وہیں ختم ہو جائیں۔صرف ذہن میں یہ رکھنے کی بات ہے کہ میں نے حسن سلوک کرنا ہے اور صبر سے کام لینا ہے۔ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی اللہ ہم نے اس بارہ میں ہمیں کیا اسوہ دکھایا۔روایت ہے کہ ایک دن حضرت عائشہ گھر میں آنحضرت العلیم سے کچھ تیز تیز بول رہی تھیں کہ اوپر سے ان کے ابا، حضرت ابو بکر تشریف لائے۔یہ حالت دیکھ کر ان سے رہا نہ گیا اور اپنی بیٹی کو مارنے کے لئے آگے بڑھے کہ تو خدا کے رسول کے آگے اس طرح بولتی ہو۔آنحضرت ام یہ دیکھتے ہی باپ اور بیٹی کے درمیان حائل ہو گئے اور حضرت ابو بکر کی متوقع سزا سے حضرت عائشہ کو بچالیا۔جب حضرت ابو بکر چلے گئے تو رسول کریم ﷺ نے حضرت عائشہ سے ازراہ مذاق فرمایا۔دیکھا آج ہم نے تمہیں تمہارے ابا سے کیسے بچایا؟ تو دیکھیں یہ کیسا اعلیٰ نمونہ ہے کہ نہ صرف خاموش رہ کر جھگڑے کو ختم کرنے کی کوشش کی بلکہ حضرت ابو بکر جو حضرت عائشہ کے والد تھے ان کو بھی یہی کہا کہ عائشہ کو کچھ نہیں کہنا اور پھر فوراً حضرت عائشہ سے مذاق کر کے وقتی بو جھل پن کو بھی دور فرما دیا۔پھر آگے آتا ہے روایت میں کہ کچھ 75