عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 38
عائلی مسائل اور ان کا حل کا لباس ہیں، کے ضمن میں اپنے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے میاں بیوی کے تعلقات کا بھی مختصر اذکر کیا تھا کہ بعض حالات میں کس طرح آپس کے اختلافات کی صورت میں ایک دوسرے پر گند اچھالنے سے بھی دونوں فریق باز نہیں رہتے اور یہ بات خد اتعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ، میاں کو بھی اور بیوی کو بھی، کس طرح ایک دوسرے کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا احساس دلایا ہے۔فرماتا ہے : هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ۔(البقرة:188) یعنی وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔یعنی آپس کے تعلقات کی پردہ پوشی جو ہے وہ دونوں کی ذمہ داری ہے۔قرآن کریم میں ہی خدا تعالیٰ نے جو لباس کے مقاصد بیان فرمائے ہیں وہ یہ ہیں کہ لباس ننگ کو ڈھانکتا ہے، دوسرے یہ کہ لباس زینت کا باعث بنتا ہے، خوبصورتی کا باعث بنتا ہے، مرے یہ کہ سردی گرمی سے انسان کو محفوظ رکھتا ہے۔پس اس طرح جب ایک دفعہ ایک معاہدے کے تحت آپس میں ایک ہونے کا فیصلہ جب ایک مرد اور عورت کر لیتے ہیں تو حتی المقدور یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ایک دوسرے کو برداشت بھی کرنا ہے اور ایک دوسرے کے عیب بھی چھپانے ہیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر نہ مردوں کو بھڑ کنا چاہئے اور نہ ہی عورتوں کو۔بلکہ ایسے تعلقات ایک احمدی جوڑے میں ہونے چاہئیں جو اس جوڑے کی خوبصورتی کو دو چند کرنے والے ہوں۔ایسی زینت ہر احمدی جوڑے میں نظر۔38