عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 28 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 28

عائلی مسائل اور ان کا حل پیدا ہو جائیں، ہمارے رشتوں میں پیدا ہو جائیں تو کبھی بے اعتمادی نہ ہو، کبھی رشتے نہ ٹوٹیں، کبھی لڑائیاں نہ ہوں، ایک دوسرے کے جذبات کا، احساسات کا خیال رکھنے والے ہوں۔پس یہ قائم ہونے والے رشتے ہمیشہ ان باتوں کا خیال رکھیں اور جماعت میں خاص طور پر اس کا خیال رکھنا چاہئے۔ایک وقت تھا کہ جب ہم کہا کرتے تھے کہ اس یورپین معاشرہ میں، مغربی معاشرہ میں رشتے بہت ٹوٹتے ہیں اور اس کی وجہ یہی بے اعتمادی ہوتی ہے، لڑکا اور لڑکی میں، میاں اور بیوی میں ایک عمر کے بعد ، چند سال گزارنے کے بعد بے اعتمادیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور رشتے ٹوٹتے ہیں“۔قولِ سدید : پائیدار رشتوں کی بنیاد ( مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 21 ستمبر 2012ء) عبادالرحمن کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے، عائلی مسائل کے ضمن میں ایک موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: پھر دسویں خصوصیت یہ ہے کہ عبادالرحمن نہ جھوٹ بولتے ہیں، نہ جھوٹی گواہی دیتے ہیں۔یہ جھوٹ بھی قوموں کے تنزل اور تباہی میں بڑا کردار ادا کرتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے بندے اور الہی جماعتیں جو ہیں انہوں نے تو اونچائی کی طرف جانا ہے اور ان سے تو اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہوا ہے کہ ان کے لئے ترقی کی منازل ہیں جو انہوں نے طے کرنی ہیں اور اوپر سے اوپر چلتے چلے جانا ہے۔اُن میں اگر جھوٹ آجائے تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے نہیں 28