عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 193
عائلی مسائل اور ان کا حل پسلی سے پیدا کی گئی ہے ( یعنی اس میں پسلی کی طرح کا طبعی ٹیڑھا پن ہے)۔پسلی کے اوپر کے حصہ میں زیادہ کجی ہوتی ہے۔اگر تم اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ دو گے۔اگر تم اسے اس کے حال پر ہی رہنے دو گے تو اس کا جو فائدہ ہے وہ تمہیں حاصل ہو تا رہے گا۔پس عورتوں سے نرمی کا سلوک کرو اور اس بارے میں میری نصیحت مانو۔( صحیح بخاری کتاب النکاح باب الوصیۃ بالنساء حدیث 5186) پھر ایک روایت ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کو اپنی مومنہ بیوی سے نفرت اور بغض نہیں رکھنا چاہئے۔اگر اس کی ایک بات اسے ناپسند ہے تو دوسری بات پسندیدہ ہو سکتی ہے۔(صحیح مسلم کتاب الرضاع باب الوصیة بالنساء حديث 3648) یعنی اگر اس کی کچھ باتیں ناپسندیدہ ہیں تو کچھ اچھی بھی ہوں گی۔ہمیشہ اچھی باتوں پر تمہاری نظر رہے۔( صحیح بخاری کتاب النکاح باب المر أة راعية في بيت زوجهاحدیث 5200) دونوں طرف سے یہ سلوک ہو گا تو تبھی گھر کا امن اور سکون قائم رہ آنحضرت ا نے تو عورتوں کے حق اس طرح قائم فرمائے کہ ایک دفعہ آنحضرت ام کے علم میں یہ بات آئی کہ صحابہ اپنی بیویوں کو مارتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا : عور تیں خدا کی لونڈیاں ہیں تمہاری لونڈیاں نہیں“۔آپ ایم نے فرمایا: اسے تھپڑ نہ مارو ، گالیاں نہ دو، گھر سے نہ نکالو۔پھر ایک حدیث میں آتا ہے حضرت معاویہ بن حیدہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سکتا۔193