عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 126 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 126

عائلی مسائل اور ان کا حل دونوں طرف کے فریقوں کو مختلف قسم کے احکام ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے، گو بہت کم ہے لیکن بعض لڑکیوں کی طرف سے بھی پہلے دن سے ہی یہ مطالبہ آ جاتا ہے کہ ہماری شادی تو ہو گئی لیکن ہم نے اس کے ساتھ نہیں رہنا۔جب تحقیق کرو تو پتہ چلتا ہے کہ لڑکے یا لڑکی نے ماں باپ کے دباؤ میں آکر شادی تو کر لی تھی ورنہ وہ کہیں اور شادی کرنا چاہتے تھے۔تو ماں باپ کو بھی سوچنا چاہئے اور دو زندگیوں کو اس طرح بر باد نہیں کرنا چاہئے"۔(خطبہ جمعہ فرموده 10 نومبر 2006ء بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن مطبوعه الفضل انٹر نیشنل یکم دسمبر 2006ء) ذاتی انا: مسائل کا پہاڑ فریقین میں مسائل کے آغاز کی ایک بڑی وجہ ان کی ذاتی انا بھی ہوتی ہے۔اس کمزوری پر روشنی ڈالتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ فرماتے ہیں: آجکل بذریعہ خطوط یا بعض ملنے والوں سے سن کر طبیعت بے چین ہو جاتی ہے کہ ہمارے مقاصد کتنے عظیم ہیں اور ہم ذاتی اناؤں کو مسائل کا پہاڑ سمجھ کر کن چھوٹے چھوٹے لغو مسائل میں الجھ کر اپنے گھر کی چھوٹی سی جنت کو جہنم بنا کر جماعتی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے کی بجائے منفی کردار ادا کر رہے ہیں۔ان مسائل کو کھڑا کرنے میں جو بھی فریق اپنی اناؤں کے جال میں اپنے آپ کو بھی اور دوسرے فریق کو بھی اور نظام جماعت کو بھی اور پھر آخر کار بعض اوقات مجھے بھی الجھانے کی کوشش کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ا۔126