تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 76 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 76

رو نخ عمات ، بنات خال، بنات خالات جنہوں نے ہجرت کی اور وہ مومنہ جس نے اپنا آپ تجھے بخش دیا ) اور ولا ان تبدل اس کی تاکید ہے۔انیسویں آیت: "إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِمُوا الآية منسوخه بالآية بعدها - میں کہتا ہوں اوّل تو یہ استحبابی حکم ہے اور اس استحباب کو مٹانے والی قرآن میں کوئی آیت نہیں بلکہ شیخ ابن عربی نے فتوحات میں لکھا ہے کہ میں تو اگر حدیث سے مشورہ لیتا ہوں تو بھی چونکہ وہ کلمات نبویہ سے مشورہ صدقہ دے لیتا ہوں۔جزاہ اللہ بیسویں آیت: "فَأْتُوا الَّذِيْنَ ذَهَبَتْ أَزْوَاجُهُمْ مِثْلَ مَا أَنْفَقُوْا، قيل منسوخة بآية الصيف وقيل باية أخرى وقيل محكم - فوزالکبیر والے فرماتے ہیں ظاہر یہی ہے کہ آیت منسوخ نہیں۔یہ حکم الزمان ہے۔اکیسویں آیت: قُمِ الَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ، آخر سورۃ کے ساتھ منسوخ ہے اور بات یہ ہے کہ قیام اللیل ایک امر مسنون ہے۔آیات شریفہ میں فرضیت قطعی نہیں اور سنیت قیام اللیل کی بالا تفاق اب بھی موجود ہے۔فقرہ ششم :- ضعف اور قلت کے وقت صبر اور درگذر کا حکم قرآن شریف میں بہت جگہ ہے لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیتیں آیت قبال سے منسوخ ہیں اور یہ بات صحیح نہیں بلکہ قتال کا حکم تاخیر میں رہا ہے۔سیوطی نے کہا دیکھو باب ناسخ منسوخ اتقان میں۔الثالث ما امر به بسبب ثم يزول السبب كالا مرحين الضعف والقلة بالصبر والصفح ثم نسخ بايجاب القتال وهذا في الحقيقة ليس نسخاً بل هوم قسم النسى كما قال تعالى اوننسها فالنسي هو الامر بالقتال الى ان يقوى المسلمون الى ان قال وبهذا يضعف مالهج به كثيرون من ان الآية في ذلك منسوخة بأية السيف وليس كذلك بل هي من المنا بمعنى ان كل امر وردیجب امتثاله في وقت ما فعله يقضى ذالك الحكم ثم ينتقل بانتقال تلك العلة الى كلم المجادلة: ١٣ الممتحنة: ۱۲ ۱۲ المزمل: ٣