تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 52 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 52

۵۲ ابطال الوہیت مسیح آقا یا استاد یا معزز رشتہ دار یا دوست کی طرف منسوب ہوگی اور یہی انجیلی محاورہ بھی ہے۔دیکھو متی ۰ ۱ باب ۴۰ جو کوئی تم کو قبول کرتا ہے وہ مجھے قبول کرتا ہے۔اور جو کوئی مجھے قبول کرتا ہے وہ اسے قبول کرتا ہے جس نے مجھے بھیجا۔اور لوقا ۹ باب ۴۸ میں ہے جو کوئی اس لڑکی کو میرے نام پر قبول کرتا ہے وہ مجھے قبول کرتا ہے اور جو مجھے قبول کرتا ہے اسے قبول کرتا ہے جس نے مجھے بھیجا۔اور لوقا ۱۰ باب ۱۶ جو تمہاری سنتا ہے میری سنتا ہے اور جو کوئی تم کو رذیل جانتا ہے مجھے رذیل جانتا ہے اور جو کوئی مجھے رذیل جانتا ہے رذیل جانتا ہے اُسے جس نے مجھے بھیجا۔متی ۲۵ باب ۳۵۔میں بھوکھا تھا تم نے مجھے کھانا کھلایا۔میں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی پلایا۔میں پردیسی تھا تم نے مجھے گھر میں اُتارا۔میں نگا تھا تم نے مجھے کپڑا پہنایا۔میں بیمار تھا تم نے میری عیادت کی۔میں قید تھا تم میرے پاس آئے۔یوحنا کا پہلا خط ۳ باب ۲۴ آیت نے صاف صاف ایسی شبہ انداز آیتوں کو خوب حل کیا اور مسیح کو خدا کہنے یا سمجھنے والوں کی اصلاح کی جہاں کہا۔جو اس کے حکموں پر عمل کرتا ہے یہ اس میں اور وہ اس میں رہتا ہے۔اور اس سے جو اس نے ہمیں دی ہے ہم جانتے ہیں کہ وہ ہم میں رہتا ہے اور یوحنا کا پہلا خط ۴ باب ۱۳ میں ہے ہم اس میں رہتے ہیں اور وہ ہم میں۔آٹھویں دلیل مسیح کی الوہیت پر ان کا بے باپ ہونا۔یہ دلیل نہایت کمزور ہے اور ہرگز مدعا کے مثبت نہیں۔کیونکہ آدم حسب نسب نامہ لوقا خدا کے بیٹے ہیں اور وہ جسمانی باپ نہیں رکھتے تھے اور حوا بھی بقول عام یہود اور عیسائیوں کے بے ما اور بے باپ پیدا ہوئی گو ہڈی اور گوشت کا محاورہ حسب کتب مقدسه جیسا کہ پیدائش ۲۹ باب ۱۴ میں ہے کہ لا بن نے یعقوب کو کہا۔تو میری ہڈی اور گوشت ہے اور دیکھو۔پیدائش ۲ باب ۲۳۔قاضی ۹ باب ۲۔۲ سموئیل۔اور ملک صدق حسب نامہ عبرانیاں ۷ باب ۳ بے باپ اور ما کے پیدا ہوئے۔اگر مسیح بے باپ پیدا ہونے سے خدائے مجسم ٹھہرتے ہیں تو لازم ہے کہ آدم اور حوا اور ملک صدق سب کے سب خدائے مجسم ہوں۔خاکسار نے دیکھا ہے کہ بعض جگہ نہایت نادان عیسائیوں نے یہاں تک غلو اور غلطی کھائی ہے کہ اُس قرآن مجید سے جس کی صدہا آیتوں میں حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام کے خدا ہونے کا انکار کیا گیا ہے۔ہائے افسوس اُسی قرآن مجید سے حضرت مسیح علیہ السلام کے اللہ اور خدا ۲۰