تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 45 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 45

۴۵ ۵۔داؤد علیہ السلام خدا کے بڑے بیٹے۔زبور ۸۹۔۲۶ و ۲۷۔۶۔سلیمان علیہ السلام خدا کے بیٹے۔ا تاریخ ۲۲ باب ۹ و ۱۰ و ۲۸ باب ۲۶۔ے۔قاضی مفتی خدا کے بیٹے زبور ۸۲-۶۔ابطال الوہیت مسیح تمام بنی اسرائیل خدا کے بیٹے۔رومی ۹ باب ۴ - استثنا ۱۴ باب ۳۲۱ باب ۱۹۔۹ تمام حواری خدا کے بیٹے - یوحنا ۳ باب ۲۔۱۰۔سب عیسائی خدا کے بیٹے بلکہ سب مومن۔ایوحنا ۳ باب ۹۔ا۔سب یتیم خدا کے بیٹے۔زبور ۶۸۔۵۔۱۲۔سب خاص و عام خدا کے بیٹے۔متی ۶ باب ۶ و ۱۸ و۷ باب ۱۱۔و پیدائش ۶ باب۴۔۱۳۔اشراف خدا کے بیٹے۔پیدائش ۶ باب۲۔۱۴۔بد کارلڑ کے۔یسعیاہ ۳۰ باب ۱۔ان تمام مقامات میں ابن اللہ کا کلمہ یا صلحی اور نیک لوگوں پر بولا گیا ہے یا اُن لوگوں پر جن کے لئے سامان تربیت دنیا میں کم ہیں یا اشرافوں اور رؤسا پر یا ساری مخلوق پر اور ان تمام جگہوں میں جتنے ابناء اللہ ہیں وہ سب کے سب صرف مخلوق ہی ہیں ان میں کوئی بھی خدائے مجسم نہیں خالص ابن انسان ہیں۔یا صرف انسان مجھے ان میں خدا کو ئی بھی نہیں۔پس بموجب ان محاورات کے اگر مسیح ابن اللہ بھی صرف انسان ہی ہوں۔خدا نہ ہوں تو ہم کو کونسی کلام مجبور کرتی ہے کہ ہم مسیج کو تو ابن اللہ بمعنی خدائے مجسم کہیں اور اور لوگوں پر لفظ ابن اللہ کا اطلاق صرف انسان یا ابن انسان پر یقین کریں۔کوئی ابن اللہ کا محاورہ خدائے مجسم کے لئے یقینی نہیں ثابت ہوا اور حضرت مسیح کا ابن انسان ہونا محاورات ذیل سے ثابت ہے۔متی ابابا۔یسوع ابن داؤد بن ابراہیم۔ہاں ایوب اباب ۱ اور ۲ باب ا کی تفسیر میں انگریزی مفسر طامس اسکاٹ نے لکھا ہے کہ نبی اللہ یعنی خدا کے بیٹے جو اس میں لکھے ہیں ان سے مراد پاک فرشتے اور دوسری جگہ ایوب ۳۸ بابے میں جو نبی اللہ یعنی خدا کے بیٹے لکھے ہیں ان سے مراد انبیاء مفسرین سمجھتے ہیں یہ حاشیہ خاکسار نے سید گلاب شاہ کی خاطر لکھا ہے کہ ان کو فصل الخطاب کے اس فقرہ سے تمام انبیا ء خدا کے بیٹے ، ملائکہ خدا کے بیٹے ایوب اباب ۶ و ۲ باب او ۳۸ بابے کے حوالہ سے لکھے تھے۔تحریر ہوا۔نورالدین ۱۳