تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 46 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 46

ابطال الوہیت مسیح ۴۶ متی ۸ باب ۲۰۔ابن آدم، مسیح ہیں۔متی ۹ باب ۶۔ابن آدم انسان ہیں۔متی ۶ باب ۱۳۔میں جوابن آدم انسان ہوں کون ہوں متی ا ا باب ۱۹۔انسان کا بیٹا کھاتا پیتا آیا۔اور وے کہتے ہیں۔دیکھو کھاؤ اور شرابی خراج گیروں اور گنہ گاروں کا دوست متنی ۱۳ باب ۵۵۔بڑھی کا بیٹا۔ایسا ہے اور اناجیل میں مسیح کا ابن انسان ہونا ثابت ہے اور عیسائی لوگ بھی مسیح کے ابن انسان ہونے سے منکر نہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ابن انسان حقیقت میں وہی خدا تھا۔جب اس نے جسم اختیار کیا تو وہی ابن اللہ کہلایا۔اس تفصیل سے اس قدر تو واضح ہو گیا کہ مسیح پر ابن اللہ بولنے سے ابن کے حقیقی معنے مقصود نہیں کیونکہ ابن کے حقیقی معنوں میں لازم آتا ہے کہ مسیح خدا کے نطفہ سے ہو اور مریم صدیقہ خدا کی جو رو بنیں۔الا یہ معنی بالکل صحیح نہیں صاف صاف غلط ہیں۔نہ تو عیسائی مریم کو جو رو مانتے ہیں نہ مسلمان بلکہ کوئی عقل والا اس امر کو جائز نہیں کرتا اس واسطے ابن اللہ کے حقیقی معنے اور اس کا عرفی مفہوم مراد نہ ہوگا بلکہ اس کلمہ ابن اللہ کی کوئی اور معنی اور اس کا کوئی اور مفہوم اس عرفی اور حقیقی معنے کے ماورائے ہوگا۔مرقس ۱۵ باب ۳۹ مسیح کو ابن اللہ لکھتا ہے اور لوقا اسی آیت کے بدلے۲۳ باب ۴۷۷ مسیح کو بار اور نیک اور صالح لکھتا ہے یعنی بجائے ابن اللہ بار بولتا ہے۔پس ہم دعوی کرتے ہیں کہ جہاں مسیح نے اپنی نسبت ابن اللہ کہا وہاں بمعنی بارلیا ہے خدائے مجسم نہیں لیا۔کیا دلیل ہے جس کے باعث ہم مجبور ہو کر کہہ دیں مسیح ابن اللہ کے لفظ سے مراد خدائے مجسم ہے؟ بلکہ لفظ ابن اللہ سے نیکی اور الوہیت کا کیا ذکر ہے۔عام ایمان دار کے معنے لینے بھی ضروری نہیں اس لئے کہ بد کار بھی خدا کے بیٹے ہیں۔یسعیاہ ۳۰ باب ۱۔غرض ابن اللہ کے لفظ سے یہ امر ثابت نہیں ہوتا کہ مسیح خدائے مجسم تھے مزید توضیح کے لئے لکھتا ہوں۔آیات ذیل پر غور کی نگاہ کرو۔یوحنا کا پہلا خط ۳ باب ۱۔دیکھو کیسی محبت باپ نے ہم سے کی ہے کہ ہم خدا کے فرزند کہلاویں۔اے پیار و ہم خدا کے فرزند ہیں اور ہنوز ظاہر نہیں ہوا کہ ہم کیا کچھ ہوں گے پر ہم ۱۴