تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 117
(۱) بولی یا زبان ۱۱۷ بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ مبادى الصرف و النحو نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَآلِهِ مَعَ التَّسْلِيمِ پہلا سبق لفظی یا تحریری جس طریق سے انسان اپنے خیالات کو ظاہر کرتا ہے اس کا نام بولی یا زبان ہے۔اور یہ اظہار خیالات دو طرح پر ہوتا ہے۔بول کر یا لکھ کر۔پس زبان یا بولی کی یہ دو قسمیں ہیں۔(۱) تقریری اور (۲) تحریری (۲) علم القواعد جس علم اور جن قواعد کے سبب سے کسی زبان کو درست لکھ سکتے یا صحیح بول سکتے ہیں وہ اس زبان کی گرامر یا قواعد کہلاتے ہیں۔(۳) کلمه یا قول مفرد انسان جو کچھ بولتا ہے وہ ایک بامعنی لفظ ہو تو قول مفرد یا روا جا کلمہ کہلاتا ہے۔ورنہ کلمہ تو ایسا ہوتا ہے جیسے اَشْهَدُ أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ہے اور جیسے اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ہیں اور الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالمین ہے۔پس کلمہ در اصل تو کسی مفید جملہ کو کہتے ہیں مگر نحو کے لوگوں نے اصطلاحاً کلمہ قول مفرد کو کہا ہے۔(۴) علم صرف ایک بامعنی لفظ کو رنگ برنگ کے معانی کے لئے مختلف شکلوں میں لانے کے قواعد کا نام علم صرف ہے۔اور فائدہ اس علم کا یہ ہے کہ ایک لفظ کے معنے معلوم ہونے سے اسی قسم اور جماعت کے بہت سے الفاظ کے معنے معلوم ہو جاتے ہیں اور ایک معنے کے لفظ معلوم ہونے سے بہت سے الفاظ اسی قسم