تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 118 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 118

۱۱۸ مبادى الصرف و النحو کے معلوم ہو جاتے ہیں گویا صرف کا علم زبان دانی کی ریل ہے۔یادر ہے علم صرف علم قواعد کی ایک شاخ ہے۔سوالات (۱) زبان کس کو کہتے ہیں۔(۲) زبان کی کتنی قسمیں ہیں۔(۳) کسی زبان کی قواعد سے کیا مراد ہوتی ہے۔(۴) قول مفرد کس کو بولتے ہیں۔(۵) کلمہ اصل میں کس کو بولتے ہیں۔(۶) کلمہ کے عام معنے بتاؤ۔(۷) علم صرف کس کو کہتے ہیں۔(۸) اس علم سے فائدہ کیا ہے۔دوسر اسبق پہلے سبق میں بتایا گیا ہے کہ انسان جو بامعنی لفظ بولتا ہے اس کا نام روا جا کلمہ ہو گیا ہے۔اب غور کرو کہ انسان جب بولتا ہے تو وہ بامعنی الفاظ تین قسم کے ہوتے ہیں۔یا تو لفظ کسی چیز کا نام ہوتے ہیں یا کسی کام کے ہونے یا واقع ہونے کو ظاہر کرتے ہیں یا دو لفظوں کا باہمی تعلق ظاہر کرتے ہیں۔اس کی مثال تمہاری اپنی بولی میں تو یہ ہے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) مکہ سے مدینہ چلے گئے۔اس فقرہ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نام ہے اس نبی کا جو تمام نبیوں کا سردار اور سب کا خاتم ہیں اور مکہ اور مدینہ نام ہے دوشہروں کا۔چلے گئے ایک لفظ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک کام کو ظاہر کرتا ہے اور سے ایک لفظ ہے جو اس کام کا علاقہ مکہ اور مدینہ سے ظاہر کرتا ہے۔پس اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ قول مفرد یا کلمہ کے تین قسم ہوتے ہیں اسم فعل اور حرف۔ا اسم جو نام ہو کسی شے کا جیسے اللہ محمد ، ملک ، نبی ، رسول ، کتاب ، تقدیر ، مکه، مدینه، جزا، قیامت ، جنت ، جہنم ، ایمان، کفر، شرک، نفاق ، صدق، اخلاص ،حسن ، احسان علم ، عمل ، احمد، قادیان وغیرہ۔۲۔فعل وہ لفظ ہے جو ظاہر کرے کہ فلاں کام کسی سے ہو چکا یا ہوتا ہے یا کسی سے ہوگا یا کسی کے