تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 126
ضرورت ۱۲۶ مبادى الصرف و النحو استاد کو چاہیے۔مصادر کے معانی بتا کر ماضی کے مختلف الفاظ بنوائے اور مختلف الفاظ ماضی کے معانی پوچھے۔یہاں تک کہ شاگرد کے ذہن نشین ہو جائے۔ماقبل آخر که زیر یا کسرہ اور پہلے جتنے متحرک ہیں ان کو ضمہ دینے سے معلوم ماضی مجہول ماضی بنتی ہے اور آخر میں دو متجانس ہوں تو ادغام کرتے ہیں۔پس نَصَرَ کا مجہول نُصِرَ - اجْتَنَبَ کا مجہول أجْتُنبَ - مَدَد کو مد کہتے ہیں اور مجہول اس کا مل ہے۔مضارع وہ فعل ہے جس کے معنے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کام ہوتا ہے ( یہ حال ہے ) یا ہوگا (یہ استقبال ہے) واحد جمع غائب مذکر يَعْلَمُ يَعْلَمَانِ يَعْلَمُونَ دونون۔نون علامت رفع میں مؤنث تَعْلَمُ تَعْلَمَانِ يَعْلَمُنَ پہلا نون علامت رفع دوسرا ضمیر فاعل | پہلانون اور علامت جمع مؤنث ہے۔مخاطب مذکر تَعْلَمُ تَعْلَمَانِ تَعْلَمُونَ ان علامت رفع و علامت فاعل مؤنث تَعْلَمِيْن تَعْلَمَانِ تَعْلَمُنَ پلانون علامت رفع یا ضمیر فاعل۔اعْلَمُ نَعْلَمُ اسی طرح نون دوسرا خوب غور کرو کہ ابتدا میں کیا زیادہ ہوا اور کہاں کہاں اور آخر میں کیا تغیر ہوا۔صرف چار حرفی ماضی میں علامت مضارع کو مضموم کرتے ہیں اور باقی میں مفتوح اور جہاں زائد ہمزہ ابتدا میں ہو اسے دور کرتے ہیں نیز جس ماضی کے ابتدا میں تا ہو مضارع بناتے وقت ماقبل آخر کو ز بر دو والا سه حرفی ماضی کے سوا زیر۔کسرہ کی ہے۔۱۲