تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 96 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 96

۹۶ دینیات کا پہلا رسالہ نماز کے اوقات فجر کی نماز کا وقت پو پھٹنے سے سورج کے نکلنے تک ہے اور اس میں پہلے دوسنتیں پھر دو فرض پڑھنے چاہئیں۔ظہر کی نماز کا وقت دو پہر ڈھلنے سے لے کر اصلی سایہ کے سوائے اور علاوہ ہر ایک چیز کا سایہ اپنی لمبائی کے برابر ہونے تک۔اس میں چار سنتیں پہلے پھر چار فرض ہیں۔اس کے بعد دوسنتیں پڑھے یا چار دو، دو کر کے پڑھے۔عصر کی نماز کا وقت ظہر کے بعد سے صحیح وقت تو وہاں تک ہے جب تک کہ سورج زرد نہ ہو جائے۔زرد دھوپ کے وقت عصر کا پڑھنا شریعت نے ایسا نا پسند کیا کہ ایسے کاہل کو منافق کے لفظ تک ( کہنے سے ) دریغ نہیں کیا اور ضرورت کا وقت سورج کے ڈوبنے تک ہے۔اس میں چار فرض ہیں اور اس کے بعد مغرب تک کوئی نماز جائز نہیں ہاں عصر کے چار فرضوں سے پہلے اگر چار سنتیں پڑھ لے تو بڑی عمدہ بات اور موجب جنت ہے۔مغرب کی نماز کا وقت سورج کے ڈوب جانے کے بعد ہے۔اس میں تین فرض اور دوسنتیں ہیں۔مغرب کا آخری وقت شفق کے غروب تک ہے۔شفق اس سرخی کو بھی کہتے ہیں جو سورج ڈوبنے کے بعد مغرب کی طرف نظر آتی ہے اور لغات عرب سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ شفق نام اس سفیدی کا بھی ہے جو سورج ڈوبنے کے بعد مغرب کی طرف دیر تک نظر آتی ہے۔عشاء کی نماز کا وقت غروب شفق سے شروع ہوتا ہے۔محدثین نصف رات تک عشاء کا وقت مانتے ہیں اور بعض فقہاء صبح صادق تک۔اس میں چار رکعت فرض اور اس کے بعد دو رکعت سنتیں یا یہ معنی حضرت ابن عمرؓ سے ثابت ہیں۔