تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 88
۸۸ رو شخ وقال قال على انا كلام الله الناطق وهذا كلام الله الصامت ترتیب عثمانی کا بگا ڑ مزید برآں رہا۔یہ تو قرآن غَيْرَ ذِي عِوَجِ اور عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ کا آپ کے ہاں حال ہے جس کو خدا نے اختلاف مٹانے کو نازل کیا قال الله وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ اور خدائی کتاب کا ناطق ہونا اس آیت سے ثابت ہے هذَا كِتُبُنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ " اور کلام اللہ الناطق علیہ السلام کے اقوال کی حجیت کا یہ حال ہے کہ تقیہ کا احتمال آپ کی ہر ایک کلام میں موجود ہے۔دیکھو تہذیب الاحکام میں ابو جعفر طوسی نے جناب امیر سے روایت کی قال علیہ السلام حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم الحمر الاهلية ونكاح المتعة - شیعہ علما کہتے ہیں تقیہ کے باعث کہا ہے اور حدیث من مات ولم يعرف امام زمانه احادیث کی معتبر کتابوں میں موجود ہی نہیں پھر اس میں تخصیص امام اور عدم فصل کا ذکر نہیں پھر اتفاق ما وشما اس زمانہ کے امام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یا قرآن امام ہے اور کتاب کا امام ہونامن قبله کتاب موسیٰ اماماً میں دیکھئے۔عبقاب میں حدیث غدیر پر زور دیا ہے الا مصنف ہر سلسلہ سند میں صرف ایک راوی کی مدح کسی کتاب سے نقل کرتا ہے۔پھر مادح کی مدح پھر اس کی کتاب کی مدح میں تطویل کرتا ہے۔تمام کتاب میں سند کے کل رجال کا حال نقل نہیں کرتا پس یا دھو کہ میں ہے یا دھوکہ دیتا ہے۔واللہ اعلم۔فقط ابواسامه نورالدین البقرة: ۲۱۴ الجاثية: ٣٠ ۲۴