تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 85
۸۵ رو شخ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی دعا۔ششم آپ کی شفاعت ہفتم اہوال وصدمات جو مابعد الموت طاری ہوتے ہیں۔ہشتم وہ اعمال اور صدقات جن کا اثر میت کو پہنچنا شرع سے ثابت ہے جیسے میت کی طرف سے روزہ رکھنا۔حج کر لینا، میت کی اولا دصالح، میت کا وہ علم جس کا نفع جاری ہے۔تم دنیویہ صدمات۔دہم کرب قیامہ۔یاز دہم اقتصاص عند المیزان۔دوازدہم صدق توحید۔سیز دہم رحمت ارحم الراحمین جس کی سبقت غضب پر منصوص ہے۔علامہ مصنف نے یہ خیال نہ فرمایا کہ اگر صحابہ سے معاصی سرزد ہوئے تو کیا مفرات ان کے لئے محال ہو گئے تھے۔نہیں نہیں نہیں۔ابوبکر کی نسبت آپ کا یہ الزام کہ ان میں حزن اور خوف تھا اور یہ بات شجاعت کے خلاف ہے۔غار کی آیت میں ان کو صاحب کہا گیا جیسے اِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا اور صاحب ہونا اہل نار کی نسبت آیا ہے۔بھلا خالیف ، بزدل حزن والا ، صاحب خلافت کے لائق ہے۔سچ کہتا ہوں قرآن ہی وہ کتاب ہے جس کو شِفَاء لِمَا فِي الصُّدُورِ کہنا بالکل سچ ہے۔اب اس وہم کی دوا سنو۔موسیٰ علیہ السلام نے اللہ جل شانہ کے سامنے اقرار کیا فَأَخَافُ اَنْ تَقْتُلُونِ اور یعقوب علیہ السلام نے فرمایا إِنَّمَا اشْكُوا بَنِى وَحُزْنِي إِلَى اللهِ اور سبحانہ و تعالیٰ حضرت امام الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کو صاحب کا خطاب دے کر فرماتا ہے وَمَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُونٍ - جس حالت میں ان اولو العزم کو خوف اور حزن اور صاحب ہونے نے امام اور رسول اللہ اور نبی ہونے سے نہیں روکا اور مطعون نہیں کیا تو ابو بکر کو خلافت سے کیوں یہ امور مانع ہوئے اور کیوں مطعون کیا۔اور یہ وہم اور خلاف واقع الزام کہ معاذ الہ شیخین منافق تھے یہ نہایت ہی غلط ہے جس حالت میں وہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ کے ساتھ ہوئے جانتے ہو اس وقت جناب کی کیا حالت تھی اور ایسی ابتدائی حالت میں ساتھ دینا کس بہادر اور محب کا کام ہے اور پھر غور کرو اور سوچو اس نے اپنی خلافت کے وقت کفر کے کون سے مسئلہ کی اشاعت کی۔اپنی قوت اور سطوت میں کفر کی رسوم میں کس کو پھیلایا۔پھر کیا اپنی اولا د کو جانشین بنانے میں کوشش کی۔اپنی قوم کے حقوق مقرر کئے۔التوبة: ٤٠ يوسف: ۸۷ ۲۱ التكوير: ٢٣