تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 81
ΔΙ رو شخ ہوئے کہ جس کو تم پوجتے ہو ہم اُسے نہیں پوجتے اور جس کو ہم پوجتے ہیں تم نہیں پوجتے تم کو تمہاری سزا ہے اور ہم کو ہماری جزا۔دیکھو حماسہ ، ولم يبق سوى العدوان دناهم كما دانو ورد كما تدين تدان مشہور ہے اور اگر دین کے مشہور معنے میں لیں تب آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ ہر گاہ تم باز نہیں آتے اور صرف بچے معبود ہی کی پرستش نہیں کرتے اور بتوں کی پرستش کرتے ہو تو ہم بھی وہ کریں گے جو ہمارے دین میں ہے کہ تم سے بجیا د پیش آویں گے۔غرض آیت جہاد کی مانع نہیں۔فقره عزیز من خاتمه خط پر ایک ضروری فائدہ لکھ کر خط کواب ختم کرتا ہوں۔فائدہ حدیث یا قرآن کے موافق ہے یا قرآن کی تفسیر ہے یا ایسے حکم کی مثبت ہے جس کا ذکر ہمیں قرآن کریم میں معلوم نہیں ہوا پس جو حدیث صحیح ہمیں زائد علی کتاب اللہ نظر آئے وہ نبی کریم کا استنباط ہے قرآن کریم سے۔ہمارے فہم سے بالا تر ہے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے ومن يطع الرسول فقد اطاع الله وما اتاكم الرسول فخذوه - دیکھو حدیث سے بھتیجے کا نکاح اس کی پھوپھی پر اور بھانجے کا اس کی خالہ پر حرام ہے۔حدیث سے رضاعت کی حرمت نسبتی حرمت کی طرح ثابت ہے حالانکہ قرآن کریم میں أُحِلَّ لَكُمْ فَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ عام موجود ہے۔وطن میں رہن کا رکھنا جدہ کو وارث بنانا بنت الا بن کو سدس دلا نا حائض پر روزہ نماز چند روز موقوف سمجھنا۔نہایت ضعیف خبر سے نبیذ التمر کے ساتھ وضو کر لینا حالانکہ قرآن میں پانی نہ ہو تو تیم کا حکم ہے۔ادنیٰ مہر کے لئے مفلس سے مفلس کے لئے دس در ہم معین کرنا۔لا يرث المسلم الکافر پر عمل کرنا۔چور کا پاؤں کاٹنا حالانکہ قرآن میں ہاتھ کاٹنا مذکور ہے۔طواف میں قیاساً طہارت کی شرط کا ایز دا کرنا حالانکہ قرآن مطلق ہے۔مغمی علیہ سے اعمال حج دوسرا ادا کر دے اسے جائز قرار دینا حالانکہ صوم عن لمیت میں اَنْ لَّيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى کا عذر ہے۔عاقلہ پر دیت کا حکم لگانا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخُری کا خلاف بجالا نا۔نہایت ہی ضعیف حدیث سے نماز میں ہنس پڑنے کو ناقض وضو جاننا اور اونٹ کے گوشت کھانے کو ناقض نہ ماننا۔ضعیف خبر سے غسل جنابت میں مضمضہ و استنشاق کو فرض کر دینا با اینکہ وضو میں مضمضہ واستنشاق کی فرضیت سے انکار ہے۔موزہ پر مسح کرنے میں جواز کا فتویٰ اینکہ عمامہ پر مسح سے انکار ہے۔اور 1