تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 74
۷۴ رد شخ 66 گیارھویں آیت: "وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ ، آہ اس مہینے میں اباحت قتال کے ساتھ منسوخ ہے فوز الکبیر میں ہے قرآن اور سنت ثابتہ میں اس کا نسخ موجود نہیں۔بارہویں آیت: - "فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمُ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ ، منسوخ ہے وَأَنِ احْكُمُ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللہ سم، کے ساتھ۔فوز الکبیر میں ہے کہ اس کے معنے ہیں کہ اگر تو حکم کرے اہل کتاب کے مقدمات میں تو ما انزل اللہ پر حکم کر اور ان کی خواہشوں پر نہ جا۔حاصل یہ ہوا کہ یا تو ہم اہل ذمہ کو چھوڑ دیں وہ اپنے مقدمات اپنے افسروں کے پاس لے جاویں اور وہ اپنی شریعت کے موافق فیصلہ کریں اگر ہمارے پاس آویں تو حسب شریعت خود فیصلہ کردیں۔تیرہویں آیت: " أَوْ أَخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ ، منسوخ ہے۔وَأَشْهِدُوا ذَوَى عَدْلٍ مِنْكُم ش کے ساتھ۔فوز الکبیر میں ہے کہ امام احمد نے آیت کے ظاہر پر حکم دیا ہے اور اس آیت کے معنے اور لوگوں نے یہ کئے ہیں۔اَوْ آخَرُنِ مِنْ غَيْرِكُمْ ای من غیر قاربكم فيكونون من سائر المسلمين۔چودھویں آیت : ” ان يكُن مِنْكُمْ عِشْرُونَ صُبِرُونَ، الآية منسوخ بالأية بعدها۔میں کہتا ہوں ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض نہیں۔اول تو اس لئے پہلی آیت شرطیہ جملہ ہے امر نہیں۔پس جو کوئی آیت ان یکن منکم کا مخاطب ہے اس وقت اس کے صابر دس گنے دشمنوں کو کافی تھے۔جو لوگ آلان کے وقت نکلے اس مجموعہ کے صابر دو چند کے مقابلہ میں غالب ہو سکتے تھے۔اگر یہ پچھلے وہی پہلے ہوں تو بھی مختلف اوقات میں انسانی حالت کی تبدیل کوئی تعجب انگیز نہیں۔اور اصل بات یہ ہے کہ جنگ بدر پہلی جنگ ہے جس میں صحابہ کرام کو عمائد مکہ اور صنادید قریش سے مقابلہ کا اتفاق پڑھا تو اس پہلی جنگ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آئندہ تو تم کو اگر تم صابر ہوئے تو دس ا المائدة : ٣ المائدة: ۴۳ المائدة: ۵۰ المائدة : ١٠٧ ه الطلاق : الانفال : ٦٦