تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 73 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 73

۷۳ رو شخ منسوخة بقوله تعالى " لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا صاحب فوز الکبیر فرماتے ہیں یہ مافی انفسكم عام مخصوص البعض ہے۔لا يكلف اللہ کی آیت شریف نے بیان کر دیا کہ مافی انفسکم سے مراد بے جا کینہ اور نفاق ہے نہ وہ تو ہمات جو دل پر بے اختیار آ جاتے ہیں کیونکہ طاقت سے باہر باتوں کا حکم نہیں اور نہ انسان کو اس کی تکلیف بلکہ ماموصول معرفہ ہے۔پس حاجت تخصیص بھی نہیں۔ساتویں آیت : اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَتِهِ ، قيل منسوخة بــقــولــــه «فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، وقيل لابل محكمة فوزالکبیر میں ہے حق تقاته کا حکم شرک اور کفر اور اعتقادی مسائل میں ہے اور ما استعطیم کا حکم اعمال میں ہے مثلاً جو کوئی وضو نہ کر سکے تیتم کر لے۔جو کوئی کھڑا نماز نہ پڑھ سکے بیٹھ کر پڑھ لے اور یہ توجیہ سیاق آیت سے ظاہر ہے۔آٹھویں آیت: وَالَّذِيْنَ عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ فَاتُوْهُمْ نَصِيبَهُمْ ، قالوا منسوخة بقوله تعالى " وَأُولُوا الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَولَى بِبَعْضِ ، فوز الکبیر میں ہے۔آیت کا ظاہر یہ ہے 66 کہ میراث وارثوں کے لئے ہے۔اور احسان و سلوک مولی الموالاۃ کے واسطے نسخ کوئی نہیں۔نویں آیت : "وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ ، آہ۔یہ آیت منسوخ ہے اور کہا گیا منسوخ نہیں لوگوں نے سستی کی اس پر عمل کرنے میں۔ابن عباس نے کہا یہ استحبابی حکم ہے۔سچ ہے۔بھلا اس کا نسخ کرنے والا کون ہے۔دسویں آیت : "وَاثْتِى يَأْتِينَ الْفَاحِشَہ ، کہا گیا منسوخ ہے آیت سورہ نور سے۔فوز الکبیر میں ہے۔یہ بالکل منسوخ نہیں بلکہ واللاتی آہ میں حکم ایک غایت کے انتظار کا ہے۔سورۂ نور میں اس غایت کا بیان ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ سبیل ہے جس کا وعدہ دیا تھا پس نسخ نہ ہوئی۔یا فاحشة کے معنی میں عام طور کی شرارتیں مراد ہیں بدون زنا کے۔پس مطلب یہ ہے کہ عورت کو عام طور پر بعض شرارتوں کے باعث گھر میں روکا جاسکتا ہے۔البقرة: ۲۸۷ الانفال: ۷۶ آل عمران: ۱۰۳ النسا : و التغابن: ۱۷ النساء : ۳۴ ك النسا : ١٦