تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 72
۷۲ رو شخ تیسری آیت:- كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ الــخ منسوخ بـقــولـه تعالى۔أحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ القِيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِتَابِكُمُ ، اور دلیل میں لکھا ہے کہ موافقت کا مقتضی تھا کہ اہل کتاب کی طرح عورت سے صحبت کرنا اور کھانا نیند کے بعد حرام ہوتا۔فوز الکبیر والے فرماتے ہیں یہ تشبیہ نفس وجوب میں ہے پس آیت منسوخ نہ ہوئی اور سچ ہے تشبیہ میں کل وجوہ کی مساوات نہیں ہوا کرتی نیز وہ حکم قرآن میں موجود نہیں۔چوقی آیت: "يَسْتَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالِ فِيهِ ، الخ منسوخ ہے وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافةً ، کے ساتھ۔فوز الکبیر میں ہے یہ آیت تحریم قتال پر دلالت نہیں کرتی بلکہ یہ آیت تو قتال کے مجوز ہے۔البتہ یہ آیت علت کو تسلیم کر کے مانع کا اظہار کرتی ہے۔پس یہ معنے ہوئے کہ اشهر حرم میں قتال بڑی سخت بات ہے لیکن فتنہ اس سے بھی برا ہے پس فتنہ کے مقابلہ میں قتال برا نہ ہوگا۔پانچویں آیت: ” وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ إلى قوله مَّتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ۔الخ منسوخة باية اربعة اشهر وعشرا والوصية منسوخة بالميراث والسكنى باقية عند قوم منسوخة عند آخرین۔فوزالکبیر میں ہے کہ جمہور مفسرین اسے منسوخ کہتے ہیں۔پھر کہا ويمكن ان يقال يستجب اويجوز للميت الوصية ولا يحب على المرأة ان تسكن في وصية وعـلـيـه ابن عباس وهذا التوجيه ظاهر من الآية۔میں کہتا ہوں کہ اس ظہور میں کچھ کلام نہیں۔مجاہد اور عطا سے مروی ہے کہ آیتہ منسوخ نہیں اور حسب اس وصیة کے سال بھر کامل اگر عورت اپنے شوہر کے گھر میں رہنا چاہے ان کومنع کرنا درست نہیں اور اگر چار مہینے دس دن کے بعد یا وضع حمل کے بعد نکلنا چاہے اور دوسری جگہ چلی جائے تو مختار ہے۔اور یہی مذہب ہے ایک جماعت کا اور پسند کیا اس کو ابن تیمیہ نے۔چھٹی آیت: "وَ اِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبُكُمْ بِهِ اللَّهُ البقرة : ۱۸۴ البقرة: ١٨٨ البقرة: ۲۱۸ التوبه : ٣٦ البقرة: ۲۳۵ البقرة: ۲۴۱ ك البقرة: ۲۸۵