تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 68 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 68

رو شخ ۶۸ والنسخ الـنـقـل كـنـقل كتاب من آخر۔والثاني: الابطال والازالة وهو المقصود۔ههـنـا (ابو سعود النسخ في اللغة۔الابطال والازالة ويرادبه النقل والتحويل والاكثر على انه حقيقة فى الازالة مجاز في النقل۔(حصول) النسخ الاول والنقل والتحويل والثاني الرفع والازالة۔(مظهرى) فقره دوم :- فقرہ اول میں معلوم ہو چکا کہ نسخ کے معنے ابطال اور تغیر اور نقل کے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ آیت ماننسخ میں ابطال کے ہی معنے مطلوب ہیں جیسے ابوسعود۔مجمع البحار سے ظاہر ہے اور علاوہ بریں جب ہم ناسخ اور منسوخ کا ذکر کرتے ہیں تو نقل والے معنے ضرور نہیں لئے جاتے۔کیونکہ اس صورت میں سارا قرآن منسوخ ہے اور تغیر کے معنی بھی مراد نہیں کیونکہ مطلق کی تقید اور عام کی تخصیص اور ایزاد شروط اور اوصاف کو اگر نسخ کہیں تو قرآن کی منسوخ آیتیں سینکڑوں کیا ہزاروں ہو جاتی ہیں تخصیص اور شیخ اور تقید اور نسخ کا تفرقہ ثابت ہے۔ونثبت انشاء الله تعالى۔یادرکھو کہ ابطال ہی کے معنے میں نسخ کا لفظ قرآن کریم میں وارد ہوا ہے۔والـقـرآن يفسر بعضه بعض قال الله تعالى۔إِلَّا إِذَا تَمَنَّى اَلَقَى الشَّيْطَنُ فِي أُمْنِيَّتِهِ ، فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ الحَ۔ای یزیله ويبطله اور یا درکھو کہ نسخ کے حقیقی معنے ابطال اور ازالہ کے ہیں۔حقیقی معنے کو بدون ضرورت چھوڑ نا مناسب نہیں اور ان معنے کے لحاظ سے قرآن میں کوئی آیت منسوخ موجود نہیں ہے۔یادر ہے کہ میں مطلق نسخ کے وقوع کا منکر نہیں ہوں۔فقره سوم :۔جن آیات کو لوگوں نے منسوخ مانا ہے اُن کے معنے کرنے میں نسخ کے ماننے والوں نے ابطال کے معنے میں ضرور تساہل کیا ہے۔مجھے ایک زمانہ میں اس مسئلہ کی جستجو تھی اُس وقت ایک رسالہ ایسا ملا جس میں پانچ سو آیت سے زیادہ منسوخہ آیات کا بیان تھا۔میں اُسے سوچتا اور مصنف کی لا پرواہی پر تعجب کرتا تھا۔تھوڑے دنوں بعد سیوطی کی اتقان دیکھی۔تو ایسی خوشی ہوئی جیسے بادشاہ کو ملک لینے کی۔یا عالم کو عمدہ کتاب ملنے کی یا قوم کے خیر خواہ کو کامیابی کی ہوتی ہے۔مجھ کو امام سیوطی کی ذکر کردہ آیات میں بھی تر ڈر تھا۔الا چھوٹا منہ بڑی بات پر خیال کر کے خاموش رہا پھر چند دنوں بعد الحج ۵۳ ۴