تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 67
۶۷ رد شخ جواب خط متضمن مسئله ناسخ و منسوخ بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد و فصلی العائذ با اللہ ابو اسامہ اپنے عزیز نجم الدین کو۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کے بعد لکھتا ہے۔تمہارے تاکیدی خط بدریافت مسئلہ نسخ مکرر پہنچے۔میرا منشا تھا کہ اس مسئلہ میں مفصل رسالہ لکھوں۔الا فی الحال کئی موانع در پیش ہیں۔آپ چند روز اور انتظار فرمائیے۔اگر زندگی باقی ہے تو انشاء اللہ تعالیٰ وہ تفصیل آپ کی نگاہ سے گزرے گی۔اس وقت خط میں ضروری باتوں پر اکتفا کرتا ہوں۔مجھے حق سبحانہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ میری یہ چند باتیں آپ کو اور ناظرین اور سامعین کو بھی مفید ہوں گی۔فاني في مقام النصح ولم لا اكون والدين النصح وانما الاعمال بالنيات وانما الامرء مانوی۔میرے دل میں جوش زن ہے جہاں تک آپ سے ہو سکے یہ خط احباب کو دکھلائیے۔کیونکہ لایو من احدكم حتى يحب لاخيه ما يحب لنفسه جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔میرے عزیز اب میں اس مضمون کو چند فقروں میں بیان کرتا ہوں فقره اول: نسخ کے معنے۔نسخ لغت میں ایک چیز کے باطل کر دینے اور دور کر دینے اور اس کے بدلہ اور چیز کو رکھ دینے کے ہیں۔اور نقل اور تحویل اور تغیر کے معنوں میں بھی آیا ہے۔قاموس میں ہے۔نسخه کمـنـعـه ازاله وغيره وابطله واقام شيئاً مقامه والشيء نسخه لکھا ہے۔والكتاب كتبه (قاموس) النسخ ابطال شيء واقامة غيره مقامه نسخت الشمس الظل وهو معنى ماننسخ (مجمع البحار)