تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 41
ام كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ابطال الوہیت مسیح اور ایک اور جگہ قرآن کریم فرماتا ہے۔قَالُوا اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا سُبْحَنَهُ هُوَ الْغَنِيُّ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ إِنْ عِنْدَكُمْ مِنْ سُلْطَنٍ بِهَذَا اتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ۔اس جگہ حضرت مسیح علیہ السلام اور ان کے سوا کسی اور بزرگ کے بیٹا ہونے کو اللہ تعالیٰ اس طرح باطل فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ غنی ہے اور احتیاج سے پاک۔اور کسی کا بیٹا ہونا اللہ تعالیٰ کے غنی اور بے پروائی کو باطل کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا تو ولد اس لئے ہوگا کہ وہ پاک ذات آپ کسی کام سے عاجز ہوگئی۔مثلاً اپنے عدل کے لحاظ سے کسی کو نجات نہیں دے سکتا۔اس واسطے اس کو ضرورت پڑی کہ جیسے عیسائیوں کا اعتقاد ہے کہ اس کا بیٹا ہو جو نجات دلا سکے یا بیٹا اس لئے کہ اسے شہوت مٹانے کی حاجت پڑی یا بیٹا اس لئے کہ اسے اپنا جانشین بنانے کی ضرورت پڑی اور بالکل ظاہر ہے کہ بیٹا باپ سے اصل میں مساوی ہوا کرتا ہے مگر چونکہ بیٹا بیٹا ہونے میں باپ کا محتاج ہے۔پس اگر مسیح علیہ السلام خدا تعالیٰ کے معاذ اللہ بیٹے ہوتے تو غنی اور بے پروائی میں باپ کے مساوی ہوتے مگر بیٹا ہو کر احتیاج سے پاک نہیں ٹھہر سکتا پھر ذات باری تعالیٰ ترکیب سے پاک ہے کیونکہ مرکب ترکیب کرنے والے کا محتاج ہوا کرتا ہے۔جب مرکب نہ ہوا تو بیٹا اس سے کیوں کر علیحدہ ہوا۔پھر بیٹا ہونا بعد یت کو چاہتا ہے اور از لی بیٹا ہونا بعدیت کے خلاف ہے۔عیسائیوں نے جس قدر دلائل مسیح کی الوہیت اور تثلیث کے اثبات میں جو ایک منشاء الوہیت مسیح ہے بیان کئے ہیں سب کے سب سادہ اعتقادی پرمبنی ہیں اس لئے ضعیف اور بیکار ہیں۔میں بے عیب واحد خدا کی مدد سے ان دلائل کو بیان کر کے ان پر جرح کرتا ہوں۔بڑے بڑے دلائل مسیح کی الوہیت پر اور تثلیث پر جو مسیح کی الوہیت کا ایک سرچشمہ ہے یہ ہیں۔پہلی دلیل مسیح کی الوہیت پر تثلیث ہے۔اب تثلیث کے دلائل اور ان کا ابطال سینے۔پہلی دلیل۔توریت شریف کا پہلا جملہ۔برا الوہیم۔برافعل ہے۔اس کے معنی پیدا کیا۔الوہیم۔اس کا فاعل ہے۔عیسائی مذہب کے لوگ اس جملہ سے تثلیث ثابت کرتے ہیں کیونکہ برا