تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 42
۴۲ ابطال الوہیت مسیح فعل واحد اور الو ہیم اس کا فاعل جمع ہے اور اس میں تثلیث کا اشارہ پایا جاتا ہے۔اس دلیل پر جرح۔الوہیم نکلا ہے۔ائو ہ سے اور الو ہ معبود برحق اور معبود باطل دونوں پر بولا جاتا ہے۔الہیم جمع ہے الوہ کی۔پس اس کے معنی معبودانِ باطل اور معبودانِ برحق کے ہوں گے اُلوہ کی جمع الہیم کا لفظ قاضیوں اور سرداروں اور فرشتوں اور بادشاہوں پر بھی بولا گیا ہے۔جمع کے معنے اس میں لازمی اور ضروری نہیں۔الوہ بمعنی معبود برحق نحمیاہ۔۹ باب ۱۷۔الوہ بمعنی معبود باطل۔دانیال ۱۱ باب ۳۷ و ۳۸ - ۲ تاریخ ۳۲ - ۱۵۔حقوق۔۱۔۱۱۔ایوب ۱۲۔۶۔الوہیم جو الوہ کی جمع ہے۔واحد حقیقی شخصی پر بھی بولا گیا ہے موسیٰ کو خروج کے بابا۔اور خروج ۴ باب ۱۶ میں الہیم کہا گیا۔خدا کہتا ہے میں نے تجھے اے موسیٰ فرعون کے لئے الہیم بنایا اور ہارون کے لئے الوہیم بنایا۔الوہیم بمعنے جمع معبودانِ باطل کے واسطے۔استثنا ۱۳۔۳۲،۱۷_۳۹، قضاة ۵-۸، ۱۰۔۱۴۔اسلاطین ۲۹ ، ۲ سلاطین ۱۹ ۱۸ ۱ تاریخ ۵ - ۲۵، ۲ تاریخ ۱۳-۱۴۲۵،۹، زبور۹۷-۷، زبور ۲۱۳۶ ، پر میاه ۲۵-۱۱-۱۲-۱۶-۲۰۔الوہیم بمعنی بادشابان و سرداران و قاضیان خروج ۲۲ باب ۲۸ آیت ، استثنا ۱۰ - ۱۷، زبور ۸۲-۱، ۱۳۸، ۱ پیدائش ۶ - ۲ و۴ ، خروج ۲۱۔۶ ،۲۲۔۲۲،۸۔۹۔الوہیم بمعنی فرشتہا اسموئیل ۴ - ۸، ۲۸-۲،۱۳ سموئیل ۷-۱۳، زبور -۸۲-۶-۸-۵- الو ہیم بمعنی خدا واحد حقیقی پیدائش ۱۔۱۱ سلاطین ۱۸-۲۴۔۳۹۔معبودان باطل اور بادشاہوں اور سرداروں اور قاضیوں اور فرشتوں پر اکثر بمعنی جمع آتا ہے اور کبھی بمعنی واحد اور معبود برحق پر ہمیشہ بمعنے واحد حقیقی آتا ہے۔علاوہ بریں اگر اشارات ہی سے ثابت کرنا چاہتے ہو تو پہلے تثلیث کو اور دلائل سے ثابت کر لو پھر اشارات سے اس کی تقویت کرو۔( تبیین )۔صریح تثلیث کا اعتقاد کتب مقدسہ سابقہ میں نہیں۔اگر ایسے ہی وہمی اشارات سے اس کا ماننا باعث نجات ہے جیسے خوش عقیدہ عیسائیوں کا خیال۔تو عیسائی انصاف سے سنیں اور مسلمانوں کو نجات یافتہ یقین کریں۔