تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 27 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 27

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ۲۷ اور وہی نشان لائے جو اللہ تعالیٰ نے اُن کے واسطے مقرر فرمائے تھے۔ششم اس لئے کہ معجزات کا ظہور اور انبیا کا فرمودہ کبھی بتدریج ظہور پذیر ہوتا ہے اور انبياء عليهم الصلوۃ والسلام چونکہ بشر اور رسول ہوتے ہیں وہ کوئی ایسی مخلوق نہیں ہوتے کہ خدائی ارادے کا خلاف چاہیں۔شریر لوگ ایسے موقت معجزات کو قبل از وقت چاہتے ہیں۔چونکہ وہ معجزات وقت معین پر ظاہر ہونے والے اور مشروط بشرائط ہوتے ہیں اس لئے قبل از تحقق شرائط اور اس وقت معین کے ظہور پذیر نہیں ہو سکتے۔مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان بنی اسرائیل سے جو فرعون کی سخت تکالیف اٹھا رہے تھے وعدہ ہوا کہ تم کو کنعان وغیرہ وغیرہ کا ملک عطا ہوگا دیکھو تو ریت۔میں نے اپنے لوگوں کی تکلیف جو مصر میں ہیں یقیناً دیکھی اور ان کی فریاد جو خراج کے محصولوں کے سبب سے ہے سنی اور میں ان کے دکھوں کو جانتا ہوں اور میں نازل ہوا ہوں کہ انہیں مصریوں کے ہاتھ سے چھڑاؤں اور اس زمین سے نکال کے اچھی وسیع زمین میں جہاں دودھ اور شہد موج مارتا ہے لے جاؤں۔کنعانیوں، حتیوں ، امور یوں ،فرزیوں،حویوں ، پیوسیوں کی جگہ میں لاؤں خروج ۳ باب ۷۔۹۔مگر دیکھو یہ وعدہ اس قوم کے حق میں پورا نہ ہوا جنہوں نے فرعون سے دکھ اٹھایا۔دیکھو: خداوند نے تمہاری باتیں سنیں اور غصہ ہوا اور قسم کھا کے یوں بولا کہ یقیناً ان شریر لوگوں میں ایک بھی اس اچھی زمین کو جس کے دینے کا وعدہ میں نے ان کے باپ دادوں سے قسم کھا کے کیا ہے نہ دیکھے گا مگر یفتہ کا بیٹا کا لب اسے دیکھے گا استثنا۔اباب ۳۶،۳۵۔ایسے ہی چند معجزات کفار مکہ نے طلب کئے ہیں جن کا ذکر ذیل میں ہے۔ا وَقَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَثْبُوعًا (بنی اسرائیل: ۹۱) ٢ اَوْ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِنْ نَّخِيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجَّرَ الْأَنْهرَ خِللَهَا تَفْجِيرًا أوْ تُسْقِطَ السَّمَاء كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِيَ بِاللهِ وَالْمَلَكَةِ قَبِيلًا أَوْ يَكُوْنَ ۲۷